اسرائیل میں پھنسے ہندوستانی طلباء کی محفوظ واپسی کے اقدامات

   

سفارتخانہ ہند کی جانب ہر ممکن مدد‘ ایک ہزار آئی ٹی پروفیشنلس کے بشمول اسرائیل میں18ہزار ہندوستانی

نئی دہلی : اسرائیل میں رہنے والے ہندوستانیوں کا ایک بڑا حصہ دیکھ بھال کرنے والوں کے طور پر کام کرتا ہے لیکن وہاں تقریباً ایک ہزار طلباء آئی ٹی پروفیشنلز اور ہیروں کے تاجر ہیں جنہیں اسرائیل سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی حکومت اسرائیل میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کو واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کا دفتر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ مملکتی وزیر خارجہ میناکشی لیکھ راج نے میڈیا کو بتایا کہ اس کیلئے بڑی کوششیں جاری ہیں۔ طلباء کو واپس لانے کے لیے پیشرفت ہوئی ہے۔ تمام ہندوستانی طلباء جو باہر جانا چاہتے تھے – اسرائیل سے باہر فلائٹ بک کروانے کے قابل تھے۔ ہوائی اڈہ بند نہیں ہے اس لیے انہیںکوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیل ایمبیسی کے ترجمان نے یہ بات بتائی ۔ ہندوستانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل میں 18,000 ہندوستانی شہری موجود ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی ہندوستانی پر تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ تل ابیب میں ہندوستانی سفارت خانے کو پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سیاح بھی شامل ہیں، ان کے بحفاظت باہر نکلنے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے سفارت خانہ ہندوستانی شہریوں کی مدد کر رہا ہے اور انہیں چوکس رہنے اور حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ عبرانی یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ایک طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ہفتے کے روز سارا دن مکمل طور پر ہدایات پر عمل کیا اور خود کو محفوظ محسوس کیا۔ اس نے مزید کہا کہ تمام ہندوستانی طلباء ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اسرائیل میں تمام ہندوستانی شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور مقامی حکام کے مشورے کے مطابق حفاظتی پروٹوکول پر عمل کریں۔ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حفاظتی پناہ گاہوں کے قریب رہیں۔ ایڈوائزری انگریزی، ہندی، مراٹھی، تامل، تلگو، ملیالم اور کنڑ زبانوں میں جاری کی گئی ۔