اسلام آباد میں امریکہ سے براہ راست بات چیت نہیں ہو گی: ایران

   

سفارتی کوششیں ہنوز جاری، پہلے دور کی ناکام بات چیت کی صدارت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی

تہران ۔ 25 اپریل (ایجنسیز) ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کو ہفتہ 25 اپریل کے روز خارج از امکان قرار دے دیا۔ ان مذاکرات کے لیے امریکی مندوبین کی اسلام آباد آمد آج ہی متوقع ہے۔ پاکستان کی طرف سے ایران جنگ میں موجودہ فائر بندی کے تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے ایک باقاعدہ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے امریکہ اور ایران کے مابین امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے سفارتی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔ امریکہ اورایران نے ممکنہ امن مذاکرات کی صورتحال پر متضاد بیانات دیے ہیں، جبکہ پاکستان دوسرے دور کی بات چیت شروع کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دو ہفتہ قبل اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات، جن کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی، 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کی بات کی تھی، تاہم انہوں نے تہران کے خلاف اپنے سخت بیانات بھی جاری رکھے۔ اس دوران کوئی حتمی معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں عالمی معیشت بدستور دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل، گیس اور دیگر اشیاء￿ کی ترسیل ایرانی حملوں کے خدشات اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتہ کے روز پاکستان جائیں گے تاکہ ایرانی وفد کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں ہمیں ایران کی جانب سے کچھ پیش رفت نظر آئی ہے، تاہم انہوں نے اس کی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ لیویٹ کے مطابق ایران نے خود رابطہ کر کے بالمشافہ مذاکرات کی درخواست کی اور امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت کسی معاہدہ کی جانب پیش رفت کا باعث بنے گی۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ملکی وزیر خارجہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، تاہم انہوں نے امریکی ایلچیوں سے براہ راست ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق عباس عراقچی پاکستان کے ذریعے اپنے ’’مشاہدات‘‘ امریکہ تک پہنچائیں گے۔

ایران میں دوماہ بعد کمرشل فضائی آپریشن بحال
تہران ۔ 25 اپریل (ایجنسیز) ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعہ کے آغاز کے تقریباً دو ماہ بعد ہفتہ کے روز ملکی دارالحکومت کے مرکزی ہوائی اڈے امام خمینی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران سے یہ کمرشل پروازیں استنبول، مسقط اور مدینہ کے لیے روانہ ہوئیں۔ اس سے قبل ایران نے فائر بندی کے شروع ہونے کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں اپنی فضائی حدود جزوی طور پر کھول دی تھیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت سے دو بار ملاقاتیں کی ہیں، جہاں خطے کی صورتحال اور علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے جاری سفارتی کوششوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
مغربی کنارہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ
یروشلم ۔ 25 اپریل (ایجنسیز) غزہ کے مغربی کنارہ میں صورتِ حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارہ میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آبادکار فلسطینی علاقوں میں مزید زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں، اسرائیلی آبادکاروں کو نیتن یاہو کی واضح حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی توجہ دوسرے تنازعات کی طرف ہونے سے مغربی کنارہ میں صورتِ حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
روس کے یوکرین پر ڈرون و میزائل حملے، 4 افراد ہلاک
کیف ۔ 25 اپریل (ایجنسیز) روس کے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس حوالے سے یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات روس نے 619 ڈرونز اور 47 میزائل داغے تھے۔ یوکرینی فضائیہ نے کہا ہے کہ روس کے 580 ڈرونز اور 30 میزائل مار گرائے ہیں۔
امریکہ کے دوسرے ممالک پر فوجی حملے صرف تیل کیلئے ہیں : روس
ماسکو۔25 اپریل (یو این آئی) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکی مداخلتیں صرف تیل کیلئے ہیں، واشنگٹن عالمی قوانین کو کمزور کر رہا ہے ۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ کی خارجہ پالیسی اور دیگر ممالک میں فوجی مداخلتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی تمام تر فوجی کارروائیاں صرف توانائی کے وسائل اور تیل کے حصول کیلئے ہوتی ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اپنی ان مداخلتوں کو چھپاتا بھی نہیں ہے جو کہ مکمل طور پر تیل سے جڑی ہوئی ہیں، جس کی واضح مثالیں ایران اور وینزویلا کی صورت میں سب کے سامنے ہیں۔
روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ عالمی توانائی منڈیوں پر اپنا غلبہ قائم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی دوسرے ملک پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ سرگئی لاوروف نے مزید کہا کہ واشنگٹن اپنے مفادات کی خاطر بغاوتوں، اغوا اور حتیٰ کہ عالمی رہنماؤں کے قتل جیسے غیر قانونی طریقے بھی اختیار کرتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی طرز عمل کی وجہ سے بین الاقوامی قوانین کی حیثیت کمزور ہو رہی ہے اور دنیا میں اب “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا تصور غالب آتا جا رہا ہے ، جو کہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے ۔