اسمبلی حلقہ منگوڑ میں مختلف ادارے اور چیانلس سروے میں مصروف

   


چار ایجنسیاں بی جے پی، تین ٹی آر ایس اور ایک کانگریس کیلئے کام میں مصروف، 5 تا 25 لاکھ روپئے کا پیاکیج کی وصولی

حیدرآباد ۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) انتخابات سے قبل سروے کرانا عام بات ہوگئی ہے۔ چند ادارے رضاکارانہ طور پر سروے کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی طاقت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیوں، قائدین کی جانب سے بھی سروے کرایا جارہا ہے تاکہ اپنی اور اپنے حریفوں کا طاقت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ رائے دہندوں کی نبض کو ٹٹولہ جاسکے۔ اس کیلئے خصوصی عملے کا انتخاب کرتے ہوئے سروے کرایا جارہا ہے۔ سروے نتائج کی بنیاد پر اپنی حکمت عملی تیار کرنے کے ساتھ سیاسی پارٹیاں ضرورت کے مطابق اپنی منصوبہ بندی پر توجہ دے رہی ہیں۔ فی الحال اسمبلی حلقہ منگوڑ کے ضمنی انتخاب کے پیش نظر کئی ادارے اور یوٹیوب چینلس سروے اور اپونین پول میں مصروف ہوگئے ہیں۔ مارکٹ میں درجنوں سروے کرنے والی ایجنسیاں موجود ہیں، جن میں چند ایجنسیاں منگوڑ میں سروے کررہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور امیدواروں کی طاقت کا اندازہ لگانے میں مصروف ہے۔ ان سروے کی تکمیل کے بعد مختلف ادارے متعلقہ پارٹی یا امیدوار کو سروے رپورٹ پیش کریں گے جس کیلئے سروے کرنے والے ادارے اپنی اہمیت اور سابق تجربات کی بنیاد پر پارٹی اور امیدواروں سے پیاکیج وصول کررہے ہیں۔ ریاست کے 8 سروے ایجنسیاں اسمبلی حلقہ منگوڑ میں سروے کررہے ہیں۔ ان میں چار ادارے بی جے پی، تین ادارے ٹی آر ایس اور ایک ادارہ کانگریس کیلئے سروے کررہا ہے۔ یہ ادارے منگوڑ میں مختلف عمر کے رائے دہندوں، مذہب، ذات پات کے لوگوں سے تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اسمبلی حلقہ منگوڑ میں 2.18 لاکھ رائے دہندے ہیں۔ ان سروے اداروں کی جانب سے ایک یا دو فیصد آبادی سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کررہے ہیں۔ ان کی رائے پر رپورٹ تیار کرتے ہوئے پارٹیوں اور امیدواروں کے حوالے کرتے ہیں، جس کیلئے ان اداروں کی جانب سے 5 لاکھ تا 25 لاکھ روپئے تک پیاکیج وصول کیا جارہا ہے۔ منگوڑ میں مسائل کیا ہیں۔ عوام کیا چاہتے ہیں۔ کونسی پارٹی کیلئے ماحول سازگار ہے۔ اس کا جائزہ لینے کیلئے 6 چینلس میدان میں سرگرم ہے۔ ہر منڈل میں 50 تا 350 افراد سے بات چیت کرتے ہوئے اوپنینس پولس حاصل کرتے ہوئے ان کی خدمات سے استفادہ کرنے والے امیدواروں یا یونیورسٹیوں کو پیش کررہے ہیں۔ اس کام کیلئے ایک ایک یوٹیوب چیانل ان کی اہمیت اور عوام میں پائے جانے والے اعتماد، سبسکرائبرس کی تعداد کے لحاظ سے 2 تا 5 لاکھ روپئے کا پیاکیج حاصل کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند چیانلس اور سروے کرانے والے ادارے اپنے اعتماد کو بڑھانے ساتھ ہی ریٹنگ کیلئے منگوڑ میں کام کررہے ہیں۔ ان کا کسی بھی پارٹی یا امیدوار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا مقصد یہی ہے۔ وہ اپنے سبسکرائبرس کی تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ مستقبل میں سیاسی جماعتوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ن