اسٹار لنک کو منظوری دینا قومی سلامتی کیلئے خطرہ

   

ملک کی دیسی ٹیلی کام ٹکنالوجی کے ذریعہ سستی موبائل اور براڈ بینڈ خدمات میں پیشرفت: سودیشی جاگرن منچ

نئی دہلی، 13 اکتوبر (یو این آئی) سودیشی جاگرن منچ نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے ایلون مسک کی کمپنی ‘اسٹار لنک’ کو ہندوستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کی منظوری نہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ منچ کے قومی جوائنٹ کنوینر ڈاکٹر اشونی مہاجن نے منگل کے روز یہاں کہا کہ اسٹار لنک کی ٹیکنالوجی قومی سلامتی، انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں خدمات پر کنٹرول کے تعلق سے سنگین چیلنجز پیدا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹار لنک کی لیزر پر مبنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہندوستانی انٹرنیٹ ٹریفک ملکی گیٹ وے کو نظر انداز کر سکتا ہے ، جس سے قانونی نگرانی اور سلامتی سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد کرانا مشکل ہو سکتا ہے ۔ اس نقطہ نظر سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور امن و امان کے چیلنجز کے دوران انٹرنیٹ خدمات کو محدود کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی اہم ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین، ایران، روس، چین اور تائیوان سمیت مختلف ممالک کے تجربات سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے جڑے سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ہندوستان کے ذریعے دیسی ٹیلی کام ٹیکنالوجی کے ذریعہ سستی موبائل اور براڈ بینڈ خدمات فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان خلائی ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دیسی ساختہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس سے دور دراز کے علاقوں میں سستی انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکے گا۔ منچ نے حکومت سے اسٹار لنک کو تجارتی سروس شروع کرنے کی اجازت نہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کرنا ملک کا بنیادی حق ہے۔ یاد رہے کہ امیزون اور اسٹارلنک کے ہندوستان میں داخلہ کے بعد یہاں کے صارفین کو خدشہ ہے کہ ان کے لیے اب انرٹنیٹ اور موبائل استعمال کرنا بھی عذاب جان بن جائے گا۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی مہنگائی نے پہلے ہی ملک کے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ اس صورتحال سے بہتر طور پر اور عوامی مفاد میں حکومت اگر فیصلہ کرتی ہے تو یہ ہر ایک کے لیے فائدہ بخش ہوگا۔واضح رہے کہ ملک میں اس وقت عوام کو انٹرنیٹ کے بجائے پیاز، ٹماٹر اور دیگر اشیائے خوردنی کی مہنگائی نے خوفزدہ کررکھا ہے۔