اسٹون کی جیویلری کے منفرد انداز

   

اس میں شک نہیں کہ جب سے انٹرنیٹ آیا دنیا سکڑ کر انتہائی قریب آ گئی ہے، تب سے دنیا بھر میں متعارف کرائے جانے والے فیشن ٹرینڈز آناً فاناً مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں ۔ اب تمام فیشن ہاؤسز کا وطیرہ ہے کہ وہ ہر سیزن کے شروع میں اپنی نئی کلیکشن متعارف کرواتے ہیں جس میں ملبوسات کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء بھی شامل ہوتی ہیں۔ یعنی فیشن اب بھی موسم کے ساتھ رنگ بدل لیتا ہے۔لہٰذا اب جو زیورات متعارف کروائے گئے ہیں ان میں اسٹون کے نیکلس فیشن کا حصہ ہیں۔جن کی بناوٹ اگرچہ نرم و نازک ہے لیکن یہ سائز میں بڑے اور بھرے ڈیزائنر پر مشتمل ہیں۔اس کے ساتھ قدیم روایتی انداز کی بالیاں اس بار فیشن کا حصہ ہیں لہٰذا خواتین اس موسم میں بڑے سائز کی جیویلری خریدنے اور پہننے کیلئے تیار رہیں بالخصوص گلے میں پہننے والے زیورات ایسے خریدیں جو بڑے سائز پر مشتمل ہوں اور کئی لڑیوں میں پروئے ہوئے ہوں یا گلوبند کی مانند آپ کی پوری گردن کو ڈھانپ لیں۔ فیشن بدلتے ہیں تو تھوڑی بہت رد و بدل کے ساتھ پرانا فیشن لوٹ کر آتا ہے، لہٰذا اس بار زیورات کا روایتی مشرقی انداز لوٹ کر آیا ہے جس کے تحت پرانی طرز کی بڑی بڑی بالیاں جھمکے اور بندے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں یہی نہیں بلکہ چوڑیوں کا فیشن بھی واپس آ رہا ہے۔یہ ذکر صرف برصغیرکا نہیں بلکہ یہاں بات گلوبل فیشن انڈسٹری کی ہو رہی ہے لہٰذا اسے مقامی فیشن سمجھتے ہوئے نظر انداز نہ کریں اور کسی بھی تقریب کیلئے یہی روایتی انداز اپنائیں۔ چند دہائیوں پہلے تک بھاری بھرکم زیورات کا فیشن تھا اور کسی بھی محفل میں وہی خاتون مرکز نگاہ بنتی تھی جس نے سب سے بھاری زیورات زیب تن کئے ہوتے تھے۔تاہم پھر رفتہ رفتہ اس رجحان میں تبدیلی آئی اور بھاری بھرکم زیورات کی جگہ نازک اور ہلکے پھلکے زیورات نے لے لی۔نیکلس، گلوبند اور بندوں بالیوں کا سائز سکڑ کر مختصر ہوتا چلا گیا۔لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں! سو فیشن انڈسٹری پر تو یہ مصرعہ کچھ زیادہ ہی صادق آتا ہے۔ لہٰذا سناروں نے فیشن کی متوالی خواتین کیلئے زیورات پر بے شمار تجربات کئے لیکن پھر جب ان کی جگہ جیویلری ڈیزائنر نے لے لی تو اس انڈسٹری کو گویا پَر لگ گئے یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے ہاں بھی متعدد جیویلری ڈیزائنر ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت زیورات ڈیزائن کر رہے ہیں۔