افغانستان میں تین کروڑ افراد کو امداد کی ضرورت : اقوام متحدہ

   

کابل : افغانستان مین اقوام متحدہ کے فلاحی امور کے رابطہ دفتر یا او سی ایچ اے نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک میں دو کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ40 لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 34 صوبوں میں سے 30 صوبوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ او سی ایچ ایکے مطابق جنوری اور اکتوبر 2022 کے درمیان انسانی ہمدردی کے اداروں کے ارکان نے کم از کم دو کروڑ 19 لاکھ لوگوں تک خوراک اور ذریعہ معاش کیلئے مدد فراہم کی۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 7 لاکھ افراد کو صحت کی دیکھ بھال اور علاج تک رسائی دی گئی ہے جب کہ 57 لاکھ بچے، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں شدید غذائی قلت کو روکنے اور ان سے نمٹنے کیلئے مدد فراہم کی گئی ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنریعنی یواین ایچ سی آرکے مطابق افغانستان میں 34 لاکھ لوگ بے گھر ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری نقل مکانی ، بے گھر ہونے والی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔