12ہزار اقلیتوں کو فائدہ پہنچانے کا نشانہ، حکومت کے فیصلہ پر کانگریس کا ردعمل
حیدرآباد۔/24 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ریاست کے اقلیتوں کو تجارتی قرض کی اسکیم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بجٹ کو 70 کروڑ سے بڑھا کر 120 کروڑ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ مائناریٹی فینانس کارپوریشن ( ٹی ایس ایم ایف سی ) کی اکنامک سپورٹ اسکیم کے تحت اقلیتوں کو جاری کئے جانے والے سبسیڈی تجارتی لون کے بجٹ کو بڑھاتے ہوئے اقلیتوں کو اسکیم کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ استفادہ کا موقع فراہم کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ٹی ایس ایم ایف سی کی اسکیم کے 120 کروڑ روپیوں کے بجٹ سے ریاست کے 12000 اقلیتوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسکیم کا جائزہ لیا اور ریاست کے 7000 اقلیتوں کو زمرہ ایک اور زمرہ دو کی سبسیڈی قرض سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد کارپوریشن کے بجٹ کو120 کروڑ تک بڑھا کرکے 12 ہزار اقلیتوں کو فائدہ پہونچنے کا جائزہ لیا۔ کارپوریشن کی سبسیڈی قرض اسکیم اقلیتوں کی معاشی ترقی اور انہیں مستحکم بنانے کے مقصد سے قائم کی گئی تاکہ سطح زندگی کی صورتحال میں استحکام آسکے۔ واضح رہے کہ ریاست میں قبل ازیں 5000 اقلیتوں کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے 50 کروڑ روپیوں کا بجٹ مقرر تھا ۔ اسی دوران تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے حکومت کی جانب سے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کی اسکیم کے بجٹ میں اضافہ کرنے کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فیصلہ اقلیتوں کے ساتھ انصاف رسانی نہیں بلکہ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ چیرمین کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ تلنگانہ میں اقلیتی آبادی ( سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ) 45 لاکھ 59 ہزار 425 ہے اور ایک دہے کے دوران اس میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے مسلم، عیسائی، سکھ ، جین وغیرہ میں 12 تا 15 لاکھ بے رزگار افراد ہیں، ان افراد کو روزگار کیلئے قرض کی اجرائی کیلئے ایک لاکھ تا 5ہزار بے روزگاروں کا نشانہ مقرر کیا ہے جو کہ اقلیتوں کی توہین کے مترادف ہے۔