نیویارک : دو عالمی جنگوں کے بعد دنیا کو امن اور انصاف دینے کیلئے 24 اکتوبر 1945 ء کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا، آج دنیا بھر میں اس ادارے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔قیام امن کیلئے اقوام متحدہ کے قیام کو 79 سال گزرگئے لیکن فلسطین اور کشمیر سمیت کئی تنازعات ثابت کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنے قیام سے اب تک اپنا مقصد وجود ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ویٹو پاور اس کے قانون کی وہ شق ہے جو اقوام متحدہ کیلئے عالمی امن کی بحالی اور مظلوم اقوام کو انصاف کی فراہمی کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔اقوام متحدہ کی ناکامیوں کی مثالوں میں فلسطین سرفہرست ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام میں ناکامی کی اہم وجہ امریکہ ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسی عالمی طاقتوں کی اسرائیل کیلئے اندھی حمایت ہے، جس کے بل پر وہ آج بھی فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے۔یہی صورتحال کشمیر کی بھی ہے، ہندوستان اپنے کمزور موقف کے پیش نظر یکم جنوری 1948 ء کو کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیاتھا۔