امریکہ کو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے یا نہیں؟ ماہرین کی رائے منقسم

   

نیویارک : امریکی ماہرین کے خیال میں افغان طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی حکمت عملی اپنانے سے واشنگٹن کو دہشت گردی سے نمٹنے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔عرب نیوز کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں طالبان سے متعلق امریکی پالیسی پر ہونے والے مباحثے کے شرکا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے جبکہ دیگر ماہرین نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔اگست 2021 میں طالبان کے ملک کا قبضہ سنبھالنے کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور ملکوں کے درمیان بھی اس حوالے سے متضاد رائے پائی جاتی ہے۔مباحثے میں شریک سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشیر لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک اور ان کی تعلیم پر پابندی کی بنیاد پر امریکی حکومت کو طالبان کے ساتھ مل کر کام نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا طالبان کے دور میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے خواتین میں خودکشی کے کیسز بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے معاملات کو بنیاد بناتے ہوئے طالبان کے ساتھ بات چیت کرنا ’غلطی ہے۔‘