امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم ہوسکتی ہے

   

ما بعد جنگ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یقین
واشنگٹن 12 ستمبر ( ایجنسیز ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ میں ماہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد حتم ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ تصادم ختم ہوگا تیل کی قیمتیں تیزی کے ساتھ نیچے آئیں گی ۔ ٹرمپ نے ڈبلن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ بہت جلد ختم ہوگی ۔ میرے خیال میں ہوسکتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہوجائے ۔ ایران جنگ میں جتنی دیر ممکن ہوسکے برقرار رہنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ انتخابات کے عمل کو پیچیدہ کیا جاسکے ۔تاہم میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے عوام اس بات کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی ۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ مغربی ایشیاء کو امریکہ کے علاقائی پولیس اہلکار کے رول کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے نئی دہلی میں جاری برکس چوٹی کانفرنس کے دوران ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے دوران یہ ریمارک کیا ۔ ایرانی صدر نے کہا کہ علاقائی سالمیت اور علاقہ کی سکیوریٹیک علاقہ کے ممالک کے ذریعہ ہی یقینی بنائی جاسکتی ہے اور ان ہی ممالک کو ایسا کرنے کی ضرورت ہے ۔ پیزشکیان نے کہا کہ ایران کوئی جنگ نہیں چاہتا اور نہ ہی وہ اس تصادم کو جاری رکھتنا چاہتا ہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ علاقہ میں امن قائم ہو۔ مسٹر پیزشکیان نے کہا کہ حالانکہ ایرانی عوام کو شدید مسائل کا شکار کیا گیا ہے اس کیباوجود ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی جنگ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اریان کیلئے امن کا قیام ہی اولین ترجیح ہے ۔