ہندو انڈومنٹ سے منادر کی جائیدادوں کے لیے منظم کام ، اوقافی جائیدادوں پر اکثریتی طبقہ قابض
حیدرآباد۔7۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے بھی منادر کی جائیدادوں کے تحفظ اور ان پر موجود قبضہ جات کی برخواستگی کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ ریاست بھر میں موجود 39لاکھ ایکڑ موقوفہ اراضی جس میں 74فیصد اراضی پر ناجائز قابضین ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں منادر کے تحت موجود موقوفہ اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کے طور پر ضلع واری اساس پر قانونی مشیروں کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے ۔تلنگانہ ہندو انڈومنٹ کے پاس مجموعی طور پر 87 ہزار 235 ایکڑ اراضیات ہیں اور ان میں 20 ہزار 124 ایکڑ اراضیات پر قبضہ جات ہیں۔ منادر کی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی بازیافت کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی حکومت کے محکمہ انڈومنٹ کے اقدامات لائق ستائش ہیں لیکن اسی طرح تلنگانہ وقف بورڈ کی 39 لاکھ ایکڑ اراضیات جن میں 70فیصد سے زائد جائیدادوں پر قبضہ جات ہیں ان کے تخلیہ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ عدالتوں میں موجود وقف جائیدادوں کے مقدمات میں عدم پیروی کے نتیجہ میں بورڈ ان جائیدادوں سے محروم ہونے لگا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ میں ریاست بھر کی 39لاکھ ایکڑ اراضیات کے تحفظ اور ان کی قانونی امور کا جائزہ لینے کے لئے محض 3 مؤظف عہدیداروں کو ذمہ داری تفویض کی گئی ہے جوکہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے جو جواب عدالت میں داخل کئے جاتے ہیں اسے تیار کرنے کے لئے ’’گوگل‘‘ کی مددحاصل کرتے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے جس انداز میں ہندو انڈومنٹ کی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ضلع واری اساس پر قانونی مشیروں کے تقرر کا فیصلہ کیا ہے اسی طرز پر اگر محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ تلنگانہ وقف بورڈ میں بھی فوری طور پر قانونی مشیروں کے تقرر کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں تلنگانہ کی ’’موقوفہ ‘‘ جائیدادوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ہندو انڈومنٹ کے تحت موجود جائیدادوں کو محض ’ہندوؤں‘ کے استفادہ کے احکامات بھی جاری کئے ہیں یعنی ہندو انڈومنٹ کے تحت موجود جائیدادوں کو صرف ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو ہی کرایہ پر دیا جائے گا لیکن ’تلنگانہ وقف بورڈ ‘ کی جائیدادوں سے استفادہ حاصل کرنے والوں کا جائزہ لیا جائے تو وقف بورڈ کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں کے علاوہ باضابطہ ان جائیدادوں سے استفادہ کرنے والوں میں غیر مسلموں کی اکثریت ہے بلکہ بعض درگاہوں کے امور بھی غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہیں ۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ انڈومنٹ کی جانب سے انڈومنٹ کی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے محکمہ مال میں موجود ریکارڈس کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں موجود مماثلت اور تنقیح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اگراسی کے ساتھ ریاستی حکومت کے محکمہ مال اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ریاست میں موجود موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کے لئے بھی اقدامات کا آغاز کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انڈومنٹ کی جائیدادوں کیساتھ ساتھ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت نے وقف قوانین میں ترمیم کے ذریعہ جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے ہیں ان کے تحت ریاستی وقف بورڈ محکمہ مال میں موجود ریکارڈس سے انہیں مربوط کرتے ہوئے ریکارڈس کو شفاف بنایا جاسکتا ہے۔3/m/b