اویسی بی جے پی کے ”چچاجان“ ہیں‘ کسانوں کو ان کے اقدامات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ راکیش ٹکیٹ

,

   

باغپت۔بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) لیڈر راکیش ٹکیٹ نے منگل کے روز الزام لگایاہے کہ کل ہندمجلس اتحاد المسلمین کے قائد اسدالدین اویسی اور بی جے پی ایک ٹیم ہیں اورکسانوں کو ان کے اقدامات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ٹکیٹ نے کہاکہ ”اویسی اور بی جے پی ایک ٹیم ہیں۔ وہ بی جے پی کے ”چچاجان“ ہیں۔ ان پر بی جے پی کی مہربانیاں ہیں۔ وہ ان کی تذلیل کرتے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیاجاتا ہے۔

بی جے پی ان کی مدد لے رہی ہے۔ کسانوں کو ان کے اقدامات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اویسی دوغلہ ہیں۔ وہ کسانوں کو برباد کردے گا۔ انتخابات کے دوران وہ سازشیں رچیں گے۔ مگر جو نتائج ضلع پنچایت انتخابات میں ائے ہیں‘ اس سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ باغپت کے لوگ انقلابی ہیں“۔

انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کسانوں کے مطالبات اور قوانین سے دستبرداری حکومت اختیار نہیں کرتی ہے تو وہ احتجاج کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ”کسانوں کے مطالبات کی یکسوئی اور زراعی قوانین سے دستبرداری کے لئے حکومت اگر راضی نہیں ہوتے ہے تو یہ احتجاج جاری رہے گا۔

جب تک ہم دہلی کی سرحد نہیں چھوڑیں گے‘ چاہئے اس کے لئے کتنا بھی وقت لگ جائے۔ ہم اپنی آخری سانس تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔

انہیں ہم کو یہ بات بتانی ہوگی کہ انہیں کون زیادہ عزیز ہے‘ کسان یاپھر کارپوریٹس“۔

ٹیکٹ نے مرکز کو کارپوریٹس چلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ”جب تک اقلیتی حمایت قیمت(ایم ایس پی) کی تمانعت واقعہ قوانین نہیں لائے جاتے تب تک کسانوں کو فائدہ نہیں ہوگا“۔انہوں نے مرکز کے نئے لیبر قوانین پر بھی تشویش کا اظہار کیاہے۔

مذکورہ بی کے یو لیڈر نے کہاکہ ”فیکٹری ورکرس اب نہ تو احتجاج کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اسوسیشن تشکیل دے سکتے ہیں۔

یہ لوگ سب فروخت کررہے ہیں۔ یہ لوگ منڈیو ں کو بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں“۔

جب سے پارلیمنٹ میں تین زراعی قوانین کو منظوری دی گئی ہے تب سے کسان حکومت کے خلاف دہلی کی مختلف سرحدوں پر احتجاج کررہے ہیں۔