اگر مودی حکومت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتی تو میں اپنا پدم بھوشن لوٹا دوں گا: انا ہزارے

,

   

نئی دہلی : سماجی کارکن انا ہزارے نے کہا ہے کہ اگر مرکز کی مودی حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے تو وہ اپنا پدم بھوشن ایوارڈ لوٹا دیں گے۔ غور طلب ہے کہ انا ہزارے گزشتہ 5 دنوں سے اپنے گاؤں رالے گن سدھی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔سماجی کارکن انا ہزارے نے مرکز اور مہاراشٹر حکومت پرلوک پال کی تقرری اور ریاست میں لوک آیکت قانون بنانے کا وعدہ پورا نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے گزشہ بدھ (31جنوری)سے بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، انا ہزارے نے کہا کہ میں اپنا پدم بھوشن صدر جمہوریہ کو واپس کر رہا ہوں ۔ میں نے اس ایوارڈ کے لیے کام نہیں کیا، آپ نے مجھے یہ ایوارڈ صرف اس وقت دیا جب میں سماجی اور ملکی مفاد میں کام کررہا تھا۔ اب جبکہ ملک اور سماج کی صورت حال ایسی ہے تو میں اس کواپنے پا س کیوں رکھوں ۔

اس سے پہلے بد عنوانی کے خلاف لڑائی لڑنے والے انا نے کہاتھا کہ وہ مہاراشٹر کابینہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں صوبے کے وزیر اعلیٰ کی مدت کار کو لوک آیکت کے دائرے میں لانے کی بات کہی گئی ہے۔انہوں نے کہا تھاکہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی گی جب تک مرکزی حکومر اقتدار میں آنے سے پہلے کیے گئے اپنے وعدوں جیسے – لوک آیکت قانون بنانے ، لوک پال کی تقرری کیے جانے اور کسانوں کے مدعے کو سلجھانے کا کام پورا نہیں کردیتی۔

دریں اثنا اتوار کو انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت آئندہ کچھ دنوں میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتی ہے تو میں اپنا پدم بھوشن لوٹا دوں گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ مودی حکومت نے لوگوں کا بھروسہ توڑا ہے۔واضح ہو کہ 1992 میں انا ہزارے کو پدم بھوشن دیا گیا تھا۔ان کو بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیو سینا کی حمایت مل رہی ہے۔ پارٹی نے انا سے گزارش کی ہے کہ وہ جئے پرکاش نارائن کی طرح بدعنوانی کے خلاف تحریک کی قیادت کریں۔اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ 2011سے 2012 میں انا ہزارے کی قیادت میں دہلی کے رام لیلا میدان میں اس وقت کی یو پی اے حکومت کے خلاف بڑی تحریک ہوئی تھی۔