ایرانی حملوں کو ناکام بنادینے اسرائیل کا دعوی ‘ ہم کامیاب رہے ‘ ایران

,

   

ایرانی کارروائی کا 48 گھنٹوں میں جواب دیا جائیگا ۔ صیہونی مملکت کا انتباہ
اسرائیل مزید کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا زیادہ طاقت سے جواب دیا جائیگا : ایران
امریکہ کی اسرائیل کو تائید تاہم فوجی کارروائی میںشامل نہیں ہونگے : جو بائیڈن
دنیا اگر اسرائیل کی تائید کرتی ہے تو تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے : روس
موساد نے ایرانی دفاعی تنصیبات کے نقشے پیش کئے ۔ نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران / یروشلم : صیہونی اسرائیل کے خلاف ایران کے حملوں کے بعد علاقہ میں کشیدگی میں بے انتہاء اضافہ ہوگیا ہے اور کچھ گوشوں کی جانب سے علاقائی اور عالمی جنگ کے اندیشے ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ اسرائیل پر کل رات ایران کی جانب سے سینکڑوں ڈرونس اور میزائیل داغتے ہوئے حملے کئے گئے ہیں اور ان حملوں کے نتیجہ میں سارے اسرائیل میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا تھا ۔ عوام کو شیلٹرس میں پناہ لینے کی ہدایت بھی دیدی گئی تھی ۔ تاہم آج یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام نے اپنے حلیف ( حواری ) ممالک امریکہ ‘ برطانیہ ‘ فرانس ‘ اردن اور جرمنی کی مدد سے ایران کے 99 فیصد ڈرونس اور میزائیلوںکو فضاء ہی میں ناکارہ بنادیا گیا ہے ۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ اس نے ایران کے حملے کو ناکام بنادیا ہے ۔ اسرائیل نے انتباہ دیا ہے کہ وہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا ۔ اسرائیل میں ‘ ایران کے حملوں کے بعد فوجی اور دفاعی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے ۔ اسرائیلی دفاعی کابینہ کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے جہاں صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ایران کے خلاف امکانی جوابی کارروائی پر غور ہوا وہیں موساد کی جانب سے اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ پر ایران کی اہم تنصیبات کے نقشے پیش کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ تنصیبات اسرائیل کے نشانہ پر ہیں۔ موساد نے دعوی کیا ہے کہ ایران کا نیک نیوکلئیر پلانٹ ‘ ایک زیر تعمیر نیوکلئیر پاور پلانٹ اور یورانیم کے ذخائر بھی اسرائیل کے نشانہ پر ہیں۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ کل کی رات اس کیلئے چوکسی اختیار کرنے کی رات تھی اور یہ ممکن ہے کہ آج رات ایران کے خلاف حملہ کردیا جائے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کو اس کی فوجی کارروائی کا جواب دیا جائیگا تاہم اسرائیل کا ایرانی عوام سے کوئی تنازعہ نہیں ہے ۔ ایران نے اقوام متحدہ مشن میں کہا ہے کہ یہ ایران اور اسرائیل کے مابین ایک فوجی تنازعہ ہے اور اس سے امریکہ کو دور رہنا چاہئے ۔ ایران نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر اسرائیل مزید کوئی غلطی ( فوجی کارروائی ) کرتا ہے تو ایران کا رد عمل کافی زیادہ سخت ہوگا ۔ اسرائیل کے خلاف مزید طاقت اور شدت کے ساتھ حملے کئے جائیں گے ۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ حالانکہ یہ حملے ناکام بنادئے گئے ہیں تاہم خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔ اسرائیلی افواج ان خطروں کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی دعوی کیا ہے کہ ملک میںخوف کا ماحول ہے جبکہ تمام اسکولز اور تعلمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے ۔ ایرانی میڈیا رپورٹس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے اسرائیلی عوام یا وہاں کے شہریوں پر حملے نہیں کئے بلکہ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے نشانوں کی تکمیل ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانے پر ایران نے نشانہ لگایا تھا اور اس میں وہ کامیاب رہا ہے ۔ ایرانی میڈیا کا دعوی ہے کہ ان کا ملک اسرائیل میں اپنے 50 فیصد اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ اسرائیلی اڈوں کو خیبر میزائیلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایران کا دعوی ہے کہ اس نے اسرائیل کے خلاف 110 بیالسٹک میزائیل ‘ 45 کروز میزائیل ‘ 170شاہد ڈرونس کا استعمال کیا ہے ۔ اس دوران امریکہ نے حالانکہ اس سارے تنازعہ میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے تاہم صدر جو بائیڈن نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو امریکہ اس میں شامل نہیں ہوگا ۔ علاوہ ازیں روس نے بھی خطہ میں فوجی تنازعہ کو توسیع دینے کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے اور اس نے کہا کہ وہ ایران کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے ۔ روس نے کہا ہے کہ اگر دنیا اسرائیل کی مدد کیلئے آگے آتی ہے اور ایران کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ۔ ایران نے کل کے حملوں پر امریکہ ‘ برطانیہ ‘ فرانس اور جرمنی وغیرہ کا رد عمل دیکھتے ہوئے آج اپنے ملک میںفرانس ‘ برطانیہ ‘ جرمنی وغیرہ کے سفیروں کو طلب کرکے ان ممالک کے دوہرے معیارات پر اپنا احتجاج درج کروایا ہے ۔ ایران کے وزیر دفاع نے بھی آج اعلی عہدیداروں وغیرہ کا اجلاس طلب کرکے اسرائیل پر حملوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔