ایرانی چائے کا حیدرآباد سے اٹوٹ رشتہ، دنیا بھر میں مقبولیت

   


مہنگائی کے سبب فی کپ 20 روپئے ، قیمت میں ا ضافہ کے باوجود کاروبار میں کوئی کمی نہیں، چائے مزہ بھی اور غذا بھی
حیدرآباد ۔9 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد اور ایرانی چائے کا آپس میں اٹوٹ رشتہ ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں حیدرآباد کا نام لیا جائے ایرانی چائے اور بریانی کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے ۔ ایرانی چائے نے غیر حیدرآبادیوں حتیٰ کہ غیر ملکی افراد کو بھی اپنا گرویدہ بنالیا ہے ۔ کوئی بھی سیاح چاہے وہ ملک کے کسی علاقہ سے تعلق رکھتا ہو یا پھر دنیا کے کسی بھی ملک سے حیدرآباد کی سیر کیلئے آئیں تو وہ بریانی اور ایرانی چائے سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں جاتے۔ ہر خاص و عام میں مقبول ایرانی چائے مہنگی ہوچکی ہے، باوجود اس کے شائقین میں کوئی کمی نہیں آئی اور نہ ہی چائے کا کاروبار کم ہوا۔ ملک بھر میں مہنگائی کا اثر ایرانی پر بھی پڑا ہے اور ہوٹل مالکین نے اخراجات میں اضافہ کا بہانہ بناکر چائے کی قیمت کو 20 روپئے کرچکے ہیں۔ ایرانی چائے کے نام پر یوں تو ہر ہوٹل دعویدار ہے لیکن آج بھی حقیقی ایرانی چاہئے کا مزہ حیدرآباد کی چند مخصوص ہوٹلوں میں آئے گا۔ چائے میں استعمال ہونے والے اجزاء خاص طور پر دودھ اور چائے پتی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد بیشتر ہوٹلوں میں ایک پیالی چائے کی قیمت 20 روپئے ہوچکی ہے ۔ شہر کی بعض ہوٹلیں ابھی بھی 15 روپئے میں ایرانی چائے سربراہ کر رہی ہیں۔ ایرانی چائے کے بغیر کئی افراد کی صبح نہیں ہوسکتی بلکہ بہت سے شائقین ایسے ہیں جن کیلئے ایرانی چائے غذا کا درجہ رکھتی ہے۔ عابڈس کے علاقہ میں واقع گرانڈ ہوٹل جو ایرانی چائے کیلئے حیدرآباد کی قدیم ہوٹلوںمیں شمار کی جاتی ہے ، وہاں فی پیالی قیمت 15 سے بڑھاکر 20 روپئے کردی گئی۔ سکندرآباد میں واقع گارڈن کیفے اور بعض دیگر ہوٹلوں میں چائے کی قیمت ابھی بھی 15 روپئے برقرار ہے۔ حیدرآباد میں تہذیبی سرگرمیوں کے مرکز لامکان میں 15 روپئے میں چائے فروخت کی جارہی ہے۔ یہاں پر حالیہ عرصہ تک چائے کی قیمت 10 روپئے تھی۔ چارمینار کے دامن میں واقع ایک مشہور ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ دودھ اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور مہنگائی کے سبب ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا۔ ہوٹل مالک نے بتایا کہ قیمت میں اضافہ کے باوجود فروخت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ کورونا وباء کی صورتحال نے بھی چائے کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے ۔ کورونا سے بچاؤ کیلئے ہوٹلوں میں روایتی انداز میں چائے کی سربراہی کے بجائے پلاسٹک کے یوز اینڈ تھرو گلاسس کا استعمال کیا جارہا ہے اور ان پر ہونے والے زائد اخراجات کی پابجائی چائے کی قیمت میں اضافہ سے کی جارہی ہے۔ سکندرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک قدیم چائے کے شائق نے بتایا کہ پلاسٹک کپ میں چائے کا مزہ نہیں ہے۔ روایتی کپ میں چائے ہوٹل میں بیٹھ کر پینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ تقریباً 100 سال قبل ایران سے منتقل ہونے والے افراد نے ایرانی چاہئے کا تعارف کرایا۔ 1935 ء میں گرانڈ ہوٹل قائم کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس چائے کو ایرانی چائے کا نام دیا گیا ہے ، وہ ایران میں دکھائی نہیں دیتی چونکہ ہوٹل مالکین ایرانی ہیں لہذا چائے کا نام ایرانی چائے پڑچکا ہے۔ چائے کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے انگریزوں نے متعارف کیا تھا جو آج ہندوستانی کی عادت بن چکی ہے ۔ آزادی کے بعد کئی برسوں تک ایرانی ہوٹلیں ، دانشوروں ، شعراء اور طلبہ کے مراکز رہے۔ ر