ایران نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری قانونی حکمرانی کے لئے ”مہلک جھٹکا“ہے

,

   

تاہم مذکورہ امریکہ نے 8مئی2018کے روز معاہدے سے باہر ہوگیاہے اور ایران پر اپنی یکطرفہ پابندیاں نافذ کردیں‘ جس سے مدخر الذکر نے معاہدے کے تحت اپنے کچھ جوہری معاہدوں کو کم کرنے کااشارہ کیا۔


تہران۔ ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار نے کہاکہ امریکہ نے پانچ سال قبل 2015کے جوہری معاہدے سے ”غیر قانونی دستبرداری“کے ذریعہ بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو ایک ”مہلک دھچکا“پہنچایاہے۔

زنہو نیوز ایجنسی کے مطابق سیاسی امور کے لئے ایران کے نائب خارجی وزیر علی ناگھیری کانی نے اپنے ایک ٹوئٹر پوسٹ کے ذریعہ یہ ریمارکس نیوکلیئر معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کے پانچ سال کے موقع پر کئے ہیں۔

ایرانی اہلکار نے کہاکہ اپنی دستبرداری کے بعد بھی مذکورہ امریکہ اپنے ”غلط“ اعمال پر نادم نہیں ہے‘ اور زوراس بات پر دیا کہ ایران اپنے جوہری معاہدے کے تحت اپنے ”جائز“ اصلاحی اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہاکہ جوہری معاہدے کا مکمل نفاذ‘ جس کی بنیادی شرط پابندیوں کو ”موثر اور دیرپا“ ہٹانا‘ دوبارہ شروع کیاجاسکتا ہے‘ جب”تخفیف کرنے والے فریق“یوروپی یونین‘ اورفرانس‘ برطانیہ او رجرمنی کے ای 3گروپ کے لئے قابل اعتماد سیاسی مرضی کا مظاہرہ کیاجانا چاہئے۔

کانی نے کہاکہ جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ہمیشہ کے لئے دستیاب نہیں ہوگا۔

ایران نے جولائی 2015کو عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کئے‘ جسے باضابطہ طور پر مشترکہ وسیع منصوبہ برائے ایکشن (جے سی پو او اے) کے نام سے جاناجاتا ہے‘ جس میں ملک پر سے پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں جوہری پروگرام پر کچھ پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیاگیاتھا۔

تاہم مذکورہ امریکہ نے 8مئی2018کے روز معاہدے سے باہر ہوگیاہے اور ایران پر اپنی یکطرفہ پابندیاں نافذ کردیں‘ جس سے مدخر الذکر نے معاہدے کے تحت اپنے کچھ جوہری معاہدوں کو کم کرنے کااشارہ کیا۔

جے سی پی او اے کی احیا پر بات چیت کا آغاز ویانا میں 2021اپریل میں ہوا۔ تاہم آخری مرتبہ 2022اگست میں ہوئی آخری دور کی بات چیت کے بعد بھی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔