بلقیس بانو معاملہ۔ سپریم کورٹ نے مجرمین کی رہائی پر گجرات حکومت کو نوٹس ارسال کی ہے

,

   

مذکورہ عدالت نے کہاکہ ”نوٹس جاری ہوئی۔ آپ اپنا جواب داخل کریں۔ ہماری ہدایت مذکورہ 11مجرمین کو کیس میں ملوث کرنے کی ہے“۔
مذکورہ سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز گجرات حکومت کو ایک نوٹس دیتے ہوئے بلقیس بانواجتماعی عصمت ریزی او ران کے افراد خاندان کے 2022گودھرا فسادات کے دوران قاتل عام میں سزا یافتہ 11ملزمین کی رہائی پر ریاستی حکومت کے فیصلے کو کئے گئے چیالنج کا جواب طلب کیاہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا(سی جے ائی) این وی رامنا اور جسٹس اجئے رستوگی اور وکرم ناتھ ریاست کو نوٹس دی اورگیارہ مجرمین کوہدایت دی کہ وہ فریق کے طور پر شامل ہوں۔ بار اینڈ بنچ نے عدالت کے حوالے سے کہاکہ ”نوٹس جاری ہوئی۔

آپ اپنا جواب داخل کریں۔ ہماری ہدایت مذکورہ 11مجرمین کو کیس میں ملوث کرنے کی ہے“۔مذکورہ گیارہ مجرمین جسونت نائی‘ گوندنائی‘ شیلیش بھٹ‘ رادھے شیام شاہ‘ بپن چندرا جوشی‘ کیسر بھائی واہانیا‘ پردیب موردیا‘ باکا بھائی واہانیا‘ راجو بھائی سونی‘ متیش بھٹ‘ اوررمیش چندن ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہاکہ اس بات کو غور کرنا ہے کہ کیاگجرات قوانین کے تحت‘ مجرمین معافی کے حقدار ہیں او رکیا معافی دیتے وقت اس معاملے کو ذہن میں رکھ کر درخواست کی گئی تھی۔ مذکورہ عدالت نے استفسار کیاکہ ”کیاآپ کہہ رہے ہیں معافی نہیں دی گئی ہے“۔درخواتی گذار کونسل سینئر وکیل کپل سبل نے جواب دیاکہ ”ہم صرف اتنا دیکھنا چاہتے ہیں کیا درخواست کے وقت ذہن وہاں پر تھا“۔

انہوں نے کہاکہ ”مہربانی کرکے درخواست دیکھیں۔ فرقہ وارانہ فسادات میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ یہا ں تک لیکھیڈا گاؤں برائے داہوڈ صلع میں لوٹ مارا‘ افراتفری اور تشدد کے واقعات پیش ائے ہیں۔ بانواورشمیم دیگرکے ساتھ بچ کر نکل جانے والے تھے۔

شمیم نے ایک بچے کو جنم دیا۔جب 25لوگوں نے گروپ نے انہیں دیکھا کچھ فرار ہوگئے‘ انہوں نے کہاکہ ’مارو مسلمانوں کو‘۔ ایک تین سال کی معصوم بچی کا سر زمین پر مارا گیا‘ او رمذکورہ حاملہ عورت کی عصمت لوٹی گئی“۔

سپریم کورٹ میں یہ درخواست سی پی ائی(ایم) لیڈر سہاسنی علی اورآزاد صحافی اور فلم میکر ریوتی لاؤل او رسابق فلاسفی پروفیسر اور جہد کار روپ ریکھ ورما نے دائر کی ہے۔بلقیس بانو کی اجتماعی رصمت ریزی گجرات کے رندیکھ پور گاؤ ں میں ہوئی ہے اور ان کی فیملی کے سات ممبرس بشمول ایک تین سال کی معصوم بچی کو3مارچ2002کے روز گجرات فسادات میں قتل کردیاگیاتھا‘ جو گوداھرا ٹرین کوجلانے کے بعد رونما ہوئے تھے۔

اس وقت وہ 21سال کی اور پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔معافی کی پالیسی کے تحت گجرات حکومت کی جانب سے رہائی کی منظوری ملنے کے بعد 15اگست کے روز گودھرا سب جیل سے مذکورہ مجرمین باہر ائے ہیں۔

انہوں نے جیل میں تقریبا15سال سے زائد عرصہ پورا کیاہے۔ سی بی ائی کی ایک خصوصی عدالت نے ممبئی میں 21جنوری 2008کو مذکورہ گیارہ مجرمین کواجتماعی عصمت ریزی اورقتل کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزاسنائی تھی۔ ان کی سزا کو بعدازاں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔