بیف کے نام پر بیوہ ہونے والی خاتون نے خاموشی کی سیاست پر سوال کھڑا کیا

,

   

رام گڑھ۔مجموعی طور پر پسماندگی کاشکار مسلم اکثریت والے علاقے کے اس گاؤں میں مریم خاتون اپنے سر پکڑے بیٹھی تھیں۔

پچھلے دوسال میں جب سے ان کے شوہر کو ہجوم نے قتل کردیاتھا‘ بہت سارے واقعات رونما ہوئے ہیں‘ ایک ان کی بیٹی کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا‘ ناقابل علاج بیماری کی وجہہ سے ان کے چھوٹے بیٹے کی موت اور انہیں غیر معمولی سردرد کی بیماری لاحق ہوگئی ہے۔

مریم خاتون جس کے شوہر علیم الدین انصاری کو 2017جون میں ’گاؤ رکشکوں‘مبینہ طور پر گاڑی میں گائے کا گوشت منتقل کرنے کے نام پر مانوا گاؤں میں جان سے ماردیاتھا نے کہاکہ ”واقعہ کے وقت جتنے بھی سیاست داں میرے گھر ملاقات کے لئے ان میں سے کسی نہ بھی مجھے میرے بچوں کے لئے کچھ کام کرنے کی تمانعت نہیں دی۔

جھارکھنڈ کے مختلف حصوں مں ینصف درجن سے زائد مسلمانوں کو بیف کی تسکری کے نام پر نشانہ بنانے کی وجہہ سے قومی سطح پر احتجاج او ربرہمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

پچھلے دوسالوں میں مشتبہ طور پر بیف کا استعمال یا منتقلی نہ صرف ریاست بلکہ دہلی میں بھی اپوزیشن جماعتوں کا بڑا سیاسی موضوع رہا ہے۔

اس وقت تنازعہ نے طول پکڑا جب مرکزی وزیر جیانت سنہا نے مارچ2018میں اس کیس میں فاسٹ ٹریک کورٹ کی جانب سے گیارہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد ضمانت پر رہا 8 مذکورہ ملازمین کی گلپوشی کی تھی۔

سنہا جو سویل ایویشن جونیر منسٹر ہیں کو سوشیل میڈیا پر ویڈیو پھیلائے جانے کے بعد اپوزیشن کی شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔رام گرھ کے ایک رہائشی نے کہاکہ ”مگر 2019لوک سبھا الیکشن میں اپوزیشن ان تمام موضوعات پر بات کرنے سے کترارہی ہے کیونکہ جھارکھنڈ میں انہیں ہندوووٹ سے محرومی کاخدشہ لاحق ہوگیاہے۔

جھارکھنٹ میں جہاں مسلم آبادی کا تناسب 14فیصد ہے‘ او ریہاں کانگریس نے جھارکھنڈ مکتی مورچہ‘ جھارکھنڈ وکاس مورچہ پرجاتانترک اور لالوپرساد کی راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ ”عظیم اتحاد“ کیاہے۔

مذکورہ الائنس کو یقین ہے کہ بی جے پی کو وہ آسانی کے ساتھ مقابلہ کریں گے جس نے 2014کے لوک سبھا الیکشن میں ریاست کی چودہ میں سے بارہ سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ریاست جھارکھنڈ میں 29اپریل کی چوتھے مرحلے میں رائے دہی ہوئی۔

اسی سال کے آخر میں اسمبلی الیکشن بھی جھارکھنڈ میں منعقد ہوں گے۔

مگر مریم خاتون اس موضوع پر اپوزیشن کی خاموشی کے پس پردہ سیاست سمجھ نہیں آرہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ”جو کوئی بھی یہاں وو ٹ کے لئے آیا ہر اس شخص سے میں نے کہاکہ پچھلے دوسالوں سے آپ کہاں تھے اور میرے شوہر کے علاوہ خوف کے عالم میں ہم جو زندگی گذار رہے ہیں اس کے متعلق آپ لوگ کیوں بات نہیں کررہے ہیں“۔

پچھلے سال موت کے بعد انصاری کے گھر میں روٹی کما کر لانے والا کوئی نہیں ہے۔ پڑوسی اور رشتہ دار اس جدوجہد میں ان کے خاندان کی مدد کے لئے آگے آرہے ہیں