بی ایس پی سربراہ مایاوتی جلد ہی کر سکتی ہے مذہب تبدیل، بودھ مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ

,

   

بہوجن سماج پارٹی کی قومی صدر مایاوتی نے مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس کے لیے وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہی ہیں۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر اس سلسلے میں قدم مناسب قدم اٹھائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مذہب تبدیلی کا عمل ہونے جارہا ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے یہ اعلان 14 اکتوبر کو مہاراشٹر اسمبلی انتخاب کے وقت ناگپور میں انتخابی تشہیر کے دوران کیا۔ انھوں نے بابا صاحب امیڈکر کی طرز پر ہندو مذہب چھوڑ کر بودھ مذہب اختیار کرنے کی بات کہی ہے ۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’مناسب وقت پر مذہب تبدیل کروں گی۔ میرے ساتھ بڑی تعداد میں قومی سطح پر مذہب تبدیلی کا عمل ہوگا۔‘‘ یہ اعلان کرتے ہوئے انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں بھی ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی طرح ہندو مذہب کو چھوڑتے ہوئے بودھ مذہب اختیار کروں گی۔
بی ایس پی سربراہ نے ناگپور کے اندورا میدان میں منعقد انتخابی جلسہ میں کہا کہ 14 اکتوبر 1956 کو بابا صاحب امبیڈکر نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ آج اسی دن (14 اکتوبر) کو میں بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کا اعلان کرتی ہوں۔ آپ کو بتادیں کہ بابا صاحب کے ساتھ اور ان کے بعد مہاراشٹر میں بڑے پیمانے پر درج فہرست ذات کے لوگوں نے بودھ مذہب اختیار کیا تھا۔ لیکن ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں یہ عمل دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ مستقبل میں اگر مایاوتی یہ قدم اٹھاتی ہیں تو یقینی طور پر شمالی ہندوستان میں سماجی اور سیاسی طور پر اس سے ایک ہنگامہ سا برپا ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ مایاوتی کا شمار ملک کے بے باک لیڈروں میں ہوتا ہے، مودی مخالف تقاریر کی وجہ سے اکثر سرخیوں میں رہتی ہے، اور ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کی چار بار وزیر اعلیٰ رہ چکی ہے۔