بی جے پی اور خواتین کے تحفظ کا دعوی

   

تو پاس ہے تو بتا کس لئے اُداس رہوں
ہر اک ادا تری میرے لئے دعا سی ہے
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کیلئے انتخابی مہم عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ بی جے پی کو اقتدار دلانے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پوری طرح سے انتخابی مہم میں مصروف ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر بنگال و ترنمول سربراہ ممتابنرجی بھی تن تنہا ساری ریاست میں پارٹی کی انتخابی مہم سنبھالی ہوئی ہیں۔ لگاتار عوام سے رابطے کئے جا رہے ہیں۔ ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا جا رہا ہے ۔ کئی مسائل کو انتخابی موضوع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ترنمول کانگریس نے انتخابات سے عین قبل ہمایوں کبیر کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے ایک طرح سے بھونچال لا دیا ہے ۔ اس سے جہاں خود ہمایوں کبیر کی پارٹی اور ان کے ہمنواء عناصر کے حوصلے پست ہوئے ہیں وہیں بی جے پی کیلئے بھی مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بی جے پی جس طرح اپنے آلہ کار کو استعمال کرتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی اس کے امکانات اب بہت کم ہوگئے ہیں۔ بنگال کے عوام کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہوگئی ہے کہ مسلمانوں کی ہمدردی کا جھوٹا دکھاوا کرنے والے لوگ بھی در اصل بی جے پی کے ایجنڈہ پر ہی کام کر رہے ہیں اور اسی کے اشاروں پر مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو ہمایوں کبیر کے ویڈیو کے بعد بی جے پی کی مہم میں مزید تیزی پیدا کی جا رہی ہے ۔ وزیراعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بنگال میں کود پڑے ہیں ۔ دونوں ہی ریاست میں خواتین کے تحفظ کو انتخابی موضوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ریاست میں خواتین کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور ان کے خلاف جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خود بی جے پی کے اقتدار والی دیگر ریاستوں کا نمبر بنگال سے بہت آگے ہے ۔ خواتین کے خلاف جرائم اور عصمت ریزی کے واقعات میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق راجستھان سب سے آگے ہے ۔ راجستھان میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ یہی صورتحال مدھیہ پردیش کی ہے اور وہاں بھی بی جے پی کا اقتدار ہے ۔ اس معاملے میں آدتیہ ناتھ کے اقتدار والی ریاست بھی پیچھے نہیں ہے اور وہاں بھی خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بہت زیادہے ۔
ویسے تو سیاسی قائدین انتخابات کے موقف میں غلط بیانی اور بلند بانگ دعووں میںکوئی کسر باقی نہیںر کھتے ہیں تاہم بی جے پی کی جانب سے یہ کام سب سے زیادہ شدت کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو مرکزی حکومت کے تحت کام کرتا ہے ۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے اور جن ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہے وہاں خواتین کے خلاف جرائم اور ان کی عصمت ریزی کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی بی جے پی کے قائدین ایسے بھی ہیں جن کے خلاف خود عصمت ریزی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ان میں کچھ تو سینئر قائدین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے خلاف جرائم میں بھی بی جے پی کے اقتدار والی ریاستیں سب سے آگے ہیں۔ وزیر اعظم ہوں یا پھر ملکل کے وزیر داخہ ہوں انہیں کسی اور ریاست کو اس معاملے میںنشانہ بنانے سے قبل خود اپنی پارٹی کے اقتدار والی ریاستوں کی صورتحال کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہئے ۔ جو صورتحال ہے وہ صرف الزامات تک محدود نہیں ہے اور نہ ہی کسی اپوزیشن لیڈر کی جانب سے یہ الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار میں یہ ساری وضاحت ہے ۔ اس پر بی جے پی اور اس کے قائدین اور خاص طور پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان ریاستوں کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی بجائے مغربی بنگال میں خواتین کے تحفظ کی بات کرنا در اصل ریاست کے عوام کو گمراہ کرنے اور حقائق چھپانے کی کوشش ہے ۔
انتخابی مہم کی اہمیت اپنی جگہ اور عوام کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے کی جانے والی تقاریر اپنی جگہ تاہم ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ محض ایک پارٹی کے قائدین نہیں بلکہ سارے ملک کے عوام کے نمائندے ہوتے ہیں۔ انہیں اس طرح سیاسی فائدہ کیلئے بے بنیاد الزامات عائدکرتے ہوئے ملک کی کسی ریاست کو بدنام کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ ضرور بنایا جانا چاہئے تاہم غلط اور بے بنیاد دعوے کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ بنگال کے عوام ساری صورتحال سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کہنے اور کرنے سے گریز نہیںکرے گی ۔ بنگال کے عوام اس طرح کے فرضی الزامات اور جھوٹے پروپگن؛ہ کا شکار نہیں ہونگے ۔ وہ حقائق جانتے ہیں۔
بہار ‘ قیادت میں تبدیلی
بہار میںایک طویل سیاسی دور کا خاتمہ ہونے والا ہے ۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے طویل عرصہ تک کام کرنے والے نتیش کمار ایک دو دن میں اپنے عہدہ سے استعفی پیش کردیں گے اور بی جے پی لیڈر کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف دلایا جائیگا ۔ نتیش کمار نے بہار میں ایک طویل عرصہ تک حکومت کی ہے اور وہ ریاست کے طویل عرصہ تک خدمات انجام دینے والے چیف منسٹر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے دور میں ریاست کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے تاہم وہ کسی طرح بی جے پی یا پھر مہا گٹھ بندھن کے ساتھ اپنے اقتدار اور چیف منسٹر کی کرسی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ضرور رہے تھے ۔ اب بی جے پی نے انہیں بھی حاشیہ پر لا کھڑا کردیا ہے ۔ نتیش کمار کے نام پر حاصل کئے گئے ووٹ سے بی جے پی کے لیڈر کو ریاست میںعنان اقتدار سونپی جانے والی ہے ۔ یہ ریاست کے عوام کی توقعات کے خلاف کیا گیا فیصلہ ہے ۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں بہار میں جو استحکام تھا وہ اب ختم ہورہا ہے اور بی جے پی اپنے اقتدار میں بہت کچھ ایسا کرسکتی ہے جس سے عوام کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ بی جے پی کا دور اقتدار کیا کچھ تبدیلیاں لاتا ہے یہ ضرور دیکھناہوگا ۔ اس تعلق سے بہار کے عوام میں بھی ایک طرح کا تجسس ضرور پایا جاتا ہے ۔