دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے
گذشتہ دو تا ڈھائی ماہ میں ملک میں جو حالات پیدا ہوئے تھے ان کے بعد کہا جا رہا تھا کہ سیاسی جماعتوںکو ملک کے نوجوانوںاور طلباء کے جذبات اور احساسات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہوگی اور انہیں اپنی روش میں تبدیلی لانی ہوگی ۔ نوجوان آج اشتعال انگیز نعروں اور مذہبی منافرت پھیلانے والے اقدامات کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں اور وہ اب تعلیم اور روزگار جیسے مسائل پر توجہ دے رہے ہیں اور اپنے حق کیلئے انہوں نے جدوجہد بھی خود اپنے ذمہ لے لی ہے ۔ اس تعلق سے نوجوانوں میں ایک ایسا شعور بیدار ہوا ہے جس کے ذریعہ وہ سماج میں تبدیلی لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نوجوانوں کے ان ہی جذبات اور احساسات کو آواز دینے کی کوشش کر رہی ہے اور انہوں نے چھاتروںکی گونج نام سے پروگرام شروع کیا ہے ۔ نوجوانوں اور طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد اس پروگرام سے خود کو جوڑ رہی ہے اور اس کا خیرمقدم بھی کر رہی ہے ۔ بی جے پی نے بھی ابتدائی طور پر نوجوانوں کے جذبات سمجھنے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کا دکھاوا کیا ۔ بی جے پی کے صدر نتن نابن نے پارٹی کے نوجوان قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش کا ڈھونگ کیا ۔ پارٹی کی قومی عاملہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے نئے چہروں کو متعارف کروایا گیا ۔ پرانے چہروں سے ذمہ داریاں واپس لے لی گئیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پارٹی اپنی مقبولیت کو نوجوانوں میں بنائے رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کیلئے بنیادی سطح پر بھی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ تاہم یہ سب کچھ ایک ڈھونگ کے سواء کچھ نہیں ہے کیونکہ بی جے پی اپنے اقدامات سے ثابت کر رہی ہے کہ وہ صرف ہندوتوا اور کٹر نظریات کی پالیسی پر ہی عمل پیرا رہے گی اور تبدیلیوں کا محض دکھاوا کرتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کے ساتھ دغاء اور دھوکہ ہی کر رہی ہے ۔
بی جے پی نے حالیہ عرصہ میں سوشیل میڈیا پر بھی دوبارہ سے توجہ مرکوز کی ہے ۔ پارٹی کے آئی ٹی سیل کے ذمہ دار امیت مالویہ سے یہ ذمہ داری واپس لے لی گئی ہے ۔ نئے سربراہ کا تقرر بھی کردیا گیا ہے ۔ اس کے باوجود سوشیل میڈیا پر پارٹی کے مواد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ کہا جا رہا ہے کہ پارٹی نے سخت اور کٹر نظریات کو ہی نئی شدت کے ساتھ آگے بڑھانے کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ان میں بھی ایسے چہروں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو فرقہ پرستی اور منافرت پھیلانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ سماج کے اہم طبقات میں دوریاں پیدا کرتے ہیں۔ فرضی خبریں پھیلانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ناتھو رام گوڈسے کی واہ واہی کرتے ہیں اور نفرت کو فروغ دینا ہی ان کا ایک نکاتی ایجنڈہ رہا ہے ۔ ایسے چہروں کو آگے بڑھاتے ہوئے بی جے پی دوبارہ سے اپنے پرانے ایجنڈہ کے ساتھ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان میں اپنے حقوق اور اپنے مستقبل کے تئیں جو شعور بیدار ہوا ہے اور وہ جس جدوجہد کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اس سے بھٹکانا چاہتی ہے ۔ وہ نہیں چاہتی کہ ملک کے نوجوان اپنے حق مانگنے کیلئے صدائے احتجاج بلند کریں۔ وہ نہیںچاہتی کہ نوجوان ملک و قوم کی ترقی کے مسائل پر اظہار خیال کریں ۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ ملک کے عوام اور خاص طور پر نوجوان نفرت کی سیاست کا کھلونا ہی بن کر رہیں۔
کچھ گوشے ایسے بھی ہیں جو نوجوانوں کے احتجاج کو ملک کی جمہوریت کیلئے استحکام کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اس تعلق سے شعور بیداری کی کوششوں کو جاری بھی رکھے ہوئے ہیں۔ راہول گاندھی کی مہم بھی نوجوانوں کو ان کے حقوق دلانے کی بات کر رہی ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کی جو شدت پسندی کی پالیسی ہے وہ شائد اس کیلئے کارآمد ثابت نہیں ہوگی تاہم اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی ذہنیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وہ ترقیاتی امور پر توجہ دینے کی بجائے منافرت کاکھیل کھیلنا ہی پسند کرے گی ۔