تریپورہ کے اسپتالوں میں ڈریس کوڈ لازمی

   

اگرتلہ : تریپورہ حکومت نے اسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری کے اہلکاروں اور دیگر طبی عملہ کے لیے ڈیوٹی اوقات کے دوران ڈریس کوڈ کو لازمی قرار دیا ہے اور حکم کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے ۔ریاستی حکومت نے تازہ سرکلر میں کہا، ”اسپتال میں ایک اہلکار اور نامزد عہدیدار ہونے کے ناطے ، اسپتال کے عملہ کو مناسب لباس پہننا ہوگا جو کہ ملک بھر میں ان کے لیے ضابطہ اخلاق کے مطابق ہو۔’ اس کے علاوہ، ان کے پاس نام کی پلیٹ ہونی چاہیے اور شناختی کارڈ پہننا چاہیے جس نے ان کی آسانی سے شناخت ہوسکے ۔سرکلر میں متنبہ کیا گیا کہ “اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔” نرسوں، ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو چھوڑ کر دیگر اہلکار حتی کہ اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بھی ڈریس کوڈ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے پایا کہ سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں ڈاکٹروں سمیت طبی عملہ کی ایک بڑی تعداد اپنی ڈیوٹی کے اوقات میں ذاتی کاموں میں مصروف رہتی ہے اور بیشتر اوقات انہیں اپنی کرسیوں پر نہیں پایا جاسکتا ہے ۔حکام نے بتایا ، “اگرتلہ گورنمنٹ میڈیکل کالج، اسٹیٹ ریفرل اسپتال آئی جی ایم اور ریاست بھر کے ضلع اسپتالوں میں کچھ عملہ مریضوں کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں گمراہ کرنے میں ملوث ہیں۔ بہت سے مریض اور ان کے رشتہ دار جو شکایات درج کروانا چاہتے ہیں وہ اکثر ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملہ کے درمیان رسمی لباس اور نام کی تختیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اپنے ہراساں کرنے والوں کی شناخت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔