دسویں جماعت کے مارکس کی بنیاد پر میرٹ کا انتخاب ، عنقریب نوٹیفیکیشن کی اجراء
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی حکومت نے ٹی جی ایس آر ٹی سی میں بڑے پیمانے پر مخلوعہ 1500 کنڈاکٹرس کی جائیدادوں کو براہ راست تقررات کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ہری جھنڈی دکھا دی ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور TGSRTC کے قیام کے بعد اب تک ریاست میں کنڈاکٹر کے عہدوں پر مستقل بنیادوں پر کوئی نئی بھرتی نہیں کی گئی تھی ۔ ہر سال ملازمین کی سبکدوشی کے باعث مخلوعہ جائیدادوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا جس کی وجہ سے ماضی میں حیدرآباد ۔ سکندرآباد سمیت مختلف اضلاع کے ڈپوز میں آوٹ سورسنگ کے ذریعہ عارضی تقررات کیے گئے تھے ۔ اب حکومت کی باقاعدہ منظوری کے بعد آر ٹی سی انتظامیہ ان 1500 مستقل جائیدادوں پر تقررات کرنے کے لیے جنگی خطوط پر تیاریاں شروع کردی ہے ۔ آر ٹی سی کے روایتی قوانین کے مطابق کنڈاکٹر کی جائیدادوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب دسویں جماعت میں حاصل کردہ نمبرات کے فیصد اور علاقائی ریزرویشن کے زمروں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا رہا ہے ۔ تاہم اس بار تقررات کے عمل میں ایک بڑی تکنیکی الجھن سامنے آکھڑی ہوئی ہے ۔ ماضی میں دسویں جماعت میں مارکس سسٹم نافذ تھا جس کے بعد حکومت نے گریڈنگ سسٹم (GPA) متعارف کرایا اور اب دوبارہ گریڈنگ کو ختم کر کے نمبرات کا فیصد واپس لایا گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ملازمت کے خواہش مند امیدواروں میں سے کچھ کے پاس مارکس کا فیصد موجود ہے اور کچھ کے پاس گریڈنگ پوائنٹس ہیں ۔ آر ٹی سی انتظامیہ اس الجھن سے پریشان ہے کہ ان دونوں بالکل الگ نظاموں کے امیدواروں کو ایک ہی میرٹ لسٹ میں کیسے یکساں اور شفاف انصاف فراہم کیا جائے ۔ اس تکنیکی الجھن کو مستقل طور پر دور کرنے کے لیے آر ٹی سی انتظامیہ نے حال ہی میں ایس ایس سی بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ پرانے گریڈنگ سسٹم کو مارکس کے فیصد میں تبدیل کرنے کا صحیح اور سرکاری فارمولہ کیا ہے تاکہ میرٹ لسٹ تیار کرتے وقت کسی بھی امیدوار کے ساتھ نا انصافی نہ ہو ۔ ایس ایس سی بورڈ سے جیسے ہی گنتی کے فارمولے پر باقاعدہ وضاحت اور رہنمایانہ خطوط موصول ہوں گے ۔ آر ٹی سی انتظامیہ فوری طور پر 1500 کنٹراکٹر کی جایئدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفیکشن جاری کردے گی ۔۔ 2/m/b