بی جے پی اور جنا سینا کے ساتھ اتحاد کا اشارہ،کھمم کے کامیاب روڈ شو پر مبصرین کی نظریں
حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے تلنگانہ میں تلگودیشم کے احیاء کی مساعی سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں نئی سیاسی صف بندی کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے کھمم میں کامیاب روڈ شو اور حیدرآباد و رنگاریڈی میں عام جلسوں کی تیاری نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو جو آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی حکومت کے خلاف مہم کے طور پر اضلاع کے دورہ پر ہیں آندھرا پردیش کی طرح تلنگانہ کے کھمم میں ان کا روڈ شو غیر معمولی کامیاب رہا۔ گذشتہ چار برسوں تک تلنگانہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے والے چندرا بابو نائیڈو کی اچانک تلنگانہ پر توجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش کی طرح تلنگانہ میں بھی بی جے پی، تلگودیشم اور جنا سینا میں اتحادی محاذ تشکیل پائے گا۔ پون کلیان جو آندھرا پردیش میں بی جے پی کے ساتھ ہیں انہوں نے تلنگانہ میں چند نشستوں پر مقابلہ کا پہلے ہی اعلان کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں اسمبلی اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں تلگودیشم تنہا مقابلہ کے بجائے بی جے پی اور جنا سینا سے مفاہمت کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے کھمم میں اعلان کیا کہ ان کی پارٹی تلنگانہ میں پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں تلگودیشم نے کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ 2014 کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں جنا سینا نے تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کی تائید کی تھی۔ دونوں پارٹیوں نے مخلوط حکومت تشکیل دی جس کے بعد جنا سینا نے علحدگی اختیار کرلی۔ 2019 میں بائیں بازو اور بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ جنا سینا نے مقابلہ کیا تھا لیکن 175 اسمبلی نشستوں میں صرف ایک پر کامیابی ملی اور پون کلیان خود دونوں نشستوں پر ہار گئے تھے۔ چندرا بابو نائیڈو کی وزیر اعظم نریندر مودی سے حالیہ ملاقات بھی تلنگانہ میں تلگودیشم کی سرگرمیوں میں اضافہ کا سبب بتائی جارہی ہیں۔ بی آر ایس قائدین کو اندیشہ ہے کہ چندرا بابو نائیڈو دونوں ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کوشاں ہیں اور تلنگانہ میں ان کی سرگرمیوں سے بی جے پی کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ر