ریونت ریڈی کی ’نرم ہندوتوا‘ پالیسی خطرناک ، آرمور واقعہ تشویشناک : امجد اللہ خان خالد
نظام آباد۔ 28جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مجلس بچاؤ تحریک (ایم بی ٹی) کے ترجمان امجد اللہ خان نے ضلع نظام آباد کے آرمور میں بھرت چندرا ہائی اسکول کے پرنسپل عامر خان پر مبینہ طور پر آر ایس ایس اور بی جے پی کارکنوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تلنگانہ میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ پولیس انسپکٹر اور سب انسپکٹر کی موجودگی میں پیش آنے کے باوجود فوری کارروائی نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔امجد اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کو بتدریج آر ایس ایس کی تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی ’’نرم ہندوتوا‘‘ پالیسی نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک بھر میں کانگریس کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سائی چیتنیا کے نظام آباد پولیس کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اقلیتی طبقے کے خلاف متعدد واقعات پیش آئے ہیں، مگر پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اسی پولیس کمشنر کے دور میں ایک مسلم نوجوان کا مبینہ فرضی انکاؤنٹر بھی پیش آیا، تاہم اقلیتوں پر مسلسل حملوں کے باوجود وہ خاموش ہیں۔امجد اللہ خان نے کہا کہ عامر خان پر حملہ کوئی واحد واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل عبدالباری کے ساتھ بھی مبینہ ناانصافی کی گئی۔ ان کے مطابق عبدالباری نے راجا ملو سے پانچ لاکھ روپے قرض لیا تھا اور کئی برس تک سود ادا کرتے رہے۔ بعد میں گاؤں کے سرپنچ کی موجودگی میں طے شدہ معاہدے کے تحت اصل رقم واپس کردی گئی، لیکن الزام ہے کہ راجا ملو نے سیکیورٹی چیک واپس نہیں کیا بلکہ اس کے ذریعے عبدالباری کے بینک کھاتے سے 75 ہزار روپے نکال لیے۔ جب عبدالباری نے اس کی وضاحت طلب کی تو ان پر مبینہ حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران پیش آئے ہنگامے میں پیٹرول کے ڈبے میں آگ لگنے سے راجا ملو کے مکان کا ایک حصہ جل گیا، مگر آرمور ٹاؤن پولیس نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے عبدالباری کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیج دیا، جبکہ راجا ملو کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ امجد اللہ خان نے تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سے مطالبہ کیا کہ عامر خان اور عبدالباری دونوں معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اقلیتوں پر حملوں میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے واقعہ نے پولیس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا ہے، جہاں متاثرہ شخص کو ہی ملزم بنا دیا گیا جبکہ مبینہ حملہ آور آزاد گھوم رہے ہیں۔