تلگودیشم کے احیاء ‘ کانگریس کے داخلی خلفشار سے فائدہ اٹھانے بی جے پی کی سرگرمیاں تیز
حیدرآباد۔25۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے بھارت راشٹر سمیتی اپنی انتخابی حکمت عملی تبدیل کرنے پر غور کررہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں تلگو دیشم کی سرگر میوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے پارٹی دار قائدین نے چیف منسٹر چند رشیکھر راؤ سے ملاقات کرکے سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں تلگو دیشم کی سرگرمیوں میں اضافہ کے علاوہ بھارت راشٹرسمیتی میں وزراء کے خلاف ارکان اسمبلی کے اجلاس اور کانگریس میں داخلی اختلافات نے برسر اقتدار پارٹی کیلئے الجھنوں میں اضافہ کردیا ہے۔ تلگودیشم کی کھمم میں ریالی اور جلسہ عام میں صدر تلگو دیشم پارٹی مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی شرکت اور تلگو دیشم دور حکومت میں ترقیاتی اقدامات کو یاد دلانے کے ساتھ ہی بھارت راشٹر سمیتی قائدین بالخصوص وزراء نے تلگو دیشم صدر کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جواب دیا اس کے علاوہ چیف منسٹر کی دختر کویتا کی جانب سے بھی چندرابابو نائیڈو پر تنقیدوں کے بعد کہا جار ہاہے کہ بی آر ایس کے دوسرے زمرہ کے قائدین نے تلگو دیشم کی بڑھتی اہمیت کا اندازہ کرنا شروع کردیا ہے اس کے علاوہ کانگریس میں تلگو دیشم سے آئے قائدین کے مستقبل کے منصوبوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اگر کانگریس قائدین اپنی جماعت کے طور پر تلگودیشم کو قبول کرکے ’گھرواپسی ‘ کرتے ہیں تو تلنگانہ کانگریس میں بھی دوسرے زمرہ کی قیادت کو موقع مل سکتا جس کیلئے وہ جدوجہد کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں اب تک بی آر ایس ‘ کانگریس اور بی جے پی میں سہ رخی مقابلہ کے آثار تھے لیکن اب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے مطابق تلنگابی آر ایس کو تلگودیشم۔بی جے پی اتحاد کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ بی آر ایس جو کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہے اس کے کئی قائدین کو تلنگانہ میں ای ڈی ‘ سی بی آئی اور انکم ٹیکس کارروائی کا سامنا ہے اور ان کے خلاف کارروائی یا الزامات ثابت ہونے پر بی آر ایس کو سنگین نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں تیزی سے بدل رہے سیاسی حالات کا جائزہ لینے بی جے پی کے وہ قائدین جو زمینی سطح پر کام کرتے ہیں وہ سرگرم ہوچکے ہیں اور صرف عوام نہیں بلکہ ان سیاسی قائدین تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے جواپنی برادری پر معمولی بھی اثر کے حامل ہیں انہیں بی جے پی کسی بھی طرح سے اپنے ساتھ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ بی آر ایس قیام کے بعد چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تلنگانہ کے علاوہ جنوبی ریاستوں میں سرگرمیوں کا آغاز کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن کوئی اجلاس یا منصوبہ بندی منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے اب اسکیم کے استفادہ کنندگان کو پارٹی کے برانڈ ایمبسڈر کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ انہیں ملک کی دیگر ریاستوں میں پیش کرکے ٹی ار ایس کی اسکیمات سے فوائد کی عملی مظاہرہ کیا جاسکے۔م