جائیداد کیلئے دو بیویوں میں جھگڑا مردہ شخص کی آخری رسومات میں دودن کی تاخیر

   

حیدرآباد 8 جولائی ( سیاست نیوز ) جائیداد کیلئے زندہ انسانوں میں جھگڑے اور اختلافات عام بات ہیں اور ان کے تنازعات کئی برس تک عدالتوں میں زیر دوران رہتے ہیں ۔ لیکن کورٹلہ پیش آئے ایک واقعہ میں ایک مردہ شخص کی آخری رسومات میں جائیداد کے تنازعہ کی وجہ سے دو دن کی تاخیر ہوگئی ۔ تفصیلات کے بموجب کورٹلہ منڈل میں ایلا پور کے سابق سرپنچ ایم نرسمہلو دو دہے قبل کورٹلہ آئے تھے اور یہیں بس گئے تھے ۔ ایک ہفتہ قبل وہ باتھ روم میں گرگئے جس کی وجہ سے ان کے سرپر زخم آئے ۔ انہیں کریمنگر کے دواخانہ کو لیجایا گیا جہاں سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا ۔ حیدرآباد میں دوران علاج ان کی موت واقع ہوگئی ۔ جب ان کی آخری رسومات کی تیاری کورٹلہ ٹاؤن میں چل رہی تھیں ان کی دوسری بیوی اور اس کے رشتہ داروں نے جائیداد کا مسئلہ حل ہونے تک آخری رسومات کی اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری جائیداد پہلی بیوی کے نام پر ہے ایسے میں جب نرسمہلو کی موت ہوگئی ہے تو دوسری بیوی اور اس کی بیٹی کس طرح گذارہ کریں گے ۔ ان کے اعتراض کے بعد آخری رسومات کو روک دیا گیا تھا ۔ پہلی بیوی کے افراد خاندان نے تھکالا پلی گاوں میں تین ایکڑ اراضی کو دوسری بیوی کی بیٹی کے نام پر منتقل کرنے سے اتفاق کیا ۔ جمعرات کو کورٹلہ ریوینیو دفتر میں اراضی کی منتقلی اور رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد ہی نرسمہلو کی آخری رسومات کی اجازت دی گئی ۔ نرسمہلو کورٹلہ میں ٹورس اینڈ ٹراویلس ایجنسی چلاتے تھے اور وہ خاصی جائیداد کے مالک بھی تھے ۔