جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی خریدنے والوں کیلئے انتباہی نوٹس جاری

   

اراضی کے تحفظ کیلئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں مقدمہ زیر دوراں ، مولانا مفتی خلیل احمد کی وضاحت
حیدرآباد۔29۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے پان مقطعہ رائے درگ کے سروے نمبر 83/1 میں موجود جامعہ نظامیہ کے تحت 510ایکڑ 35 گنٹے اراضی میں 10ایکڑ 63 گنٹے اراضی کی فروخت سے مجموعی طور پر 2833 کروڑ 22لاکھ حاصل کئے ہیں۔سروے نمبر 83/1میں موجود پلاٹ نمبر 2 میں 5ایکڑ38 گنٹے پر محیط اراضی کا فی ایکڑ 269کروڑ روپئے سے ہراج قطعیت پایا اور اس ایک پلاٹ کے ذریعہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کو 1447 کروڑ22لاکھ روپئے حاصل ہوئے جبکہ گذشتہ دنوں ہوئے 5ایکڑ35گنٹے کے ہراج سے 1386 کروڑ روپئے حاصل ہوئے تھے اور پلاٹ نمبر 1 میں موجود اراضی 264کروڑ روپئے فی ایکڑ فروخت کی گئی تھی ۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے جو بولی کی رقم متعین کی تھی پلاٹ نمبر 1 اس رقم سے مجموعی طور پر 25فیصد زیادہ میں فی ایکڑ فروخت کیاگیاجو کہ ایم ایس این ریالیٹی نے کامیاب بولی لگاتے ہوئے حاصل کیا تھا اور اب ومسی رام بلڈرس نے تعین کی گئی ابتدائی بولی سے 52.3فیصد بولی لگاتے ہوئے 5.38ایکڑ اراضی خریدلی ہے۔ امیر جامعہ نظامیہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد نے گذشتہ دنوں ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی سے متعلق جاری ہنگامہ آرائیوں کے دوران پہلی مرتبہ باضابطہ تحریری وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جامعہ نظامیہ ‘ اپنی جائیداد کے تحفظ کے لئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کئے ہوئے ہے اور جائیداد کے ہراج کی اطلاع پر ’جامعہ نظامیہ ‘ نے شہر کے سرکردہ اخبارات میں مذکورہ جائیداد کے ہراج میں حصہ لینے اور اس جائیداد کو خریدنے والوں کے لئے ’’انتباہی نوٹسیں‘‘ جاری کر رکھی ہیں تاکہ انہیں متنبہ کیا جاسکے۔مولانا مفتی خلیل احمد نے اپنی وضاحت میں اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ نے ’وقف ٹریبونل‘ میں دائر کئے گئے مقدمہ کے دوران جواب داخل نہیں کیا تھا جس کے نتیجہ میں ٹریبونل نے اس مقدمہ کو خارج کردیا تھا اورٹریبونل کے اس فیصلہ کے خلاف ’جامعہ نظامیہ ‘ تلنگانہ ہائی کورٹ میں CRP-3206/2023 داخل کی ہے جو کہ زیر دوراں ہے۔اس مقدمہ کے موقف کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی گئی لیکن شائع ہونے والی خبروں کو افواہیں اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے ادارہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے پان مقطعہ ‘ رائے درگ سروے نمبر83/1 میں موجود اراضی کے ہراج سے حاصل ہونے والی رقم کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 28 اگسٹ کو کئے گئے ہراج سے 1447کروڑ22لاکھ روپئے حاصل ہوئے اور اس سے قبل جو ہراج ہوا تھا اس کے ذریعہ TGIIC کو 1386 کروڑ حاصل ہوئے تھے جو کہ مجموعی طور پر 2833 کروڑ22 لاکھ ہوچکے ہیں۔3/a/b