جعلی سرٹیفکیٹ کے ذریعہ پریکٹس کرنے والا ڈاکٹرس کے ریاکٹ کا پردہ فاش

   

نئی دہلی : سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ملک بھر میں ڈاکٹروں کے ایک ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے جنہوں نے اپنی میڈیکل ڈگریاں زیادہ تر روس، یوکرین اور چین سے حاصل کی ہیں اور وہ ہندوستان میں پریکٹس کر رہے ہیں۔سی بی آئی نے ہندوستان کی 14 ریاستوں میں نااہل غیر ملکیوں کو میڈیکل پریکٹس کے لیے جعلی لائسنس دینے کے معاملے میں کارروائی کی ہے۔ جمعرات کو سی بی آئی نے اس معاملے میں 91 مقامات پر چھاپے مارے اور ایف ایم جی امتحان کے جعلی پاس سرٹیفکیٹس کے مجرمانہ دستاویزات برآمد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ چھاپے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہوئے۔ چھاپے میں ایجنسی نے ایف ایم جی ای (فارن میڈیکل گریجویشن امتحان) کے جعلی سرٹیفکیٹس سمیت کئی مشکوک دستاویزات بھی برآمد کئے ہیں۔مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی شکایت پر 73 غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے،سی بی آئی نے اس معاملے میں تحقیقات شروع کر دی ہے۔ سی بی آئی نے 14 ریاستی میڈیکل کونسلوں اور 73 غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان امیدواروں کو ایف ایم جی امتحان پاس کیے بغیر ہندوستان میں طب کی مشق کرنے کی اجازت تھی جوایف ایم جی امتحان دیے بغیر پریکٹس کر رہے تھے ۔حکام نے بتایا کہ نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن نے اس بارے میں وزارت صحت کو اطلاع دی تھی۔وزارت نے بتایا کہ روس، یوکرین، چین اور نائیجیریا جیسے ممالک سے ایم بی بی ایس کرنے والے 73 میڈیکل گریجویٹس نے ایف ایم جی امتحان پاس نہیں کیا۔ اس کے باوجود اسے مختلف ریاستی میڈیکل کونسلوں نے میڈیکل پریکٹس کا لائسنس دیا تھا۔اقتصادی جرائم یونٹ (EOU) نے بہار اسٹاف سلیکشن کمیشن (BSSC) پیپر لیک معاملے میں پہلی گرفتاری کی۔ اقتصادی جرائم ونگ نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قبل ازیں EOU نے ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی خصوصی ٹیم نے دو مقامات پر چھاپے بھی مارے تھے۔ ذرائع کے مطابق اکنامک آفنس یونٹ نے یہ مقدمہ اسٹیٹک مجسٹریٹ آف ایگزام کے بیان پر درج کیا