بیروت: ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے جنوبی لبنان میں ’’صور‘‘ کے اطراف علاقے ’’طیر حرفا‘‘ پر بمباری کرکے متعدد افراد کو ہلاک کردیا۔ لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور ایک تیسرا شخص زخمی ہوگیا جس کی شناخت نہیں ہوسکی۔ میڈیا کے ذرائع نے تصدیق کی کہ چھاپے میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔ مارے جانے والے حزب اللہ کے ارکان تھے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جمعہ کی صبح مغربی سیکٹر کے قصبے ’’طیر حرفا‘‘ پر حملہ کیا۔ ایجنسی نے بتایا کہ گزشتہ رات نصف شب کے بعد اسرائیل نے مرکزی سیکٹر میں واقع قصبے عیتا الشعب کی طرف بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔انہوں نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے مغربی سیکٹر میں نقورہ اور جبل البونح کے قصبے کے ارد گرد صبح کے وقت بمباری کی۔ ایجنسی کے مطابق رات بھر اور جمعہ کی صبح تک فوج نے تقسیم کرنے والی بلیو لائن سے ملحقہ سرحدی دیہاتوں پر آگ برسانا جاری رکھا۔ فوجی اور جاسوس طیارے جنوب کے دیہاتوں پر پرواز کرتے رہے۔جمعہ کی صبح اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے اور طیر حرفا کے علاقے میں اس کے “سیل” کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ 146 ویں ڈویڑن کی افواج نے ایک سیل کو پسپا کر دیا جو اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ طیر حرفا کے علاقے میں سیل کو ختم کر دیا گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سیل کو ختم کرنے کے بعد حملے کے علاقے سے ایک میزائل لانچ کا پتہ چلا ہے۔حزب اللہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے اسرائیل کے میرون اڈے پر نگرانی یونٹ کے ہیڈ کوارٹر اور فضائی آپریشن کے انتظام کے جاسوسی ساز و سامان کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو نے کہا کہ لبنان سے ٹینک شکن میزائل داغے گئے۔ ماؤنٹ میرون میں ایئر کنٹرول بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ اڈہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔