جون کے آخر میں بائیڈن کا سعودی عربیہ دورہ متوقع۔ رپورٹس

,

   

واشنگٹن۔امریکی صدر جو بائیڈن توقع کی جارہی ہے کہ اس ماہ کے آخر میں سعودی عربیہ کودورہ کریں گے‘ این سی بی نے ذرائع کا حوالے سے یہ خبر دی ہے۔ بڑے پیمانے پر بھی توقع کی جارہی ہے کہ وہ اسرائیل کا بھی جائیں گے۔

مذکورہ میڈیا ادارے کے بموجب علامتی طور پر یہ ایک اہم اقدام ہوگا کیونکہ بائیڈن انتظامیہ ان امور کو انجام دے رہا ہے جس ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ارب خلیجی ممالک او راسرائیل کے درمیان تعلقات کو بحال کرنے کی پیش رفت کاحصہ ہیں۔ امریکی عہدیداروں اور دیگر جو اس سفری پلان سے واقف ہیں کا کہنا ہے کہ جون کے آخر میں سعودی عربیہ کے دورے کے دوران بائیڈن کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ممکن ہے۔

اپنے ابتدائی نام ایم بی ایس سے پہچانے جانے والے سعودی عربیہ کے یہ والی عہد سعودی عرب کے غیرمعلنہ حکمران ہیں اور اگلے بادشاہ کی قطار میں ہیں۔ تاہم وائٹ ہاوز نے جمعرات کے روز بائیڈن کے سعودی عربیہ دورہ کے متعلق سوال کو نظر انداز کردیاہے۔

وائٹ ہاوم پریس سکریٹری کارینہ جین پیرری نے کہاکہ ”مذکورہ صدر مشرقی وسطی علاقے سے قائدین کے ساتھ جڑنے کے مواقعوں پرصدر غور کریں گے۔ بائیڈن کا منصوبہ اس ماہ اسپین میں منعقد ہونے والی نیٹو کے اجلاس او رجرمنی میں گروپ سات کے اجلاس میں شرکت کا منصوبہ ہے۔

جمعرات کے روز سعودی عرب کی سربراہی میں تیل کی پیدوار کرنے والے بڑے اداروں نے بھی توقع سے زیادہ تیل نکالنے پر اتفاق کیاہے جو بائیڈن کے لئے ایک راحت ہے جس کی رائے شمار ی میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد گیس کی آسمان چھوتی قیمتوں میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

درایں اثناء مذکورہ امریکہ او پی ای سی +فیصلوں میں شامل نہیں ہوا جس کے ذریعہ تیل کی پیدوار میں اضافہ کا فیصلہ کیاگیاہے‘ وائٹ ہاوز. ترجمان کرینہ جین پیرری نے جمعرات کے روز قبل ازیں دن میں کہاکہ مذکورہ او پی ای سی +کمیٹی نے تیل کی پیدوار میں 648,000بیرلس فی یوم جولائی تااگست میں اضافہ پیدواری کا اعلا ن کیاہے جو سابق میں 432,000بیرل کا منصوبہ تھا۔جب پوچھا گیاکہ پیدوار کے لئے اتحادیوں کو راضی کرنے کے لئے واشنگٹن نے کیارول ادا کیا ہے اس پر جواب دیتے ہوئے پیرری نے کہاکہ ”یہ ایک فیصلہ او پی ای سی +اپنے طور پر لیتا ہے‘ ہم اس پر فیصلہ کریں ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس میں ملوث ہیں“۔