جھوٹے مقدمات ، پولیس تفتیش اور انصاف رسانی کا جائزہ

   

سنگاریڈی کے گیتم یونیور سٹی میں قومی کانفرنس کا انعقاد ، ماہرین قانون ، محققین ، سماجی کارکنوں کی شرکت
سنگا ریڈی 23 اگست( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کاؤٹلیہ اسکول آف پبلک پالیسی (کے ایس پی پی) نے سنگا ریڈی گیتم ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی، حیدرآباد کے زیر اہتمام ’’جھوٹے مقدمات کی حرکیات‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد کیا قانون، صنفی انصاف، پولیس تفتیش اور جھوٹے مقدمات کے تصور کا بین الشعبہ جاتی تناظر میں جائزہ لیا گیا۔کانفرنس کا انعقاد یوگانتَر، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی حیدرآباد (IIITH) اور بھومیکا ویمنز کلیکٹو، حیدرآباد کے اشتراک سے کیا گیا۔ بھارتی خواتین کے حقوق کے موضوع پر معروف وکیل اور مصنفہ فلیویا اگنیس، شریک بانی لیگل سینٹر، نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے گھریلو تشدد، صنفی انصاف اور خواتین سے متعلق مقدمات میں ’’جھوٹے مقدمات‘‘ کے تصور سے جڑے قانونی اور سماجی خدشات پر روشنی ڈالی۔کانفرنس کے دوران مختلف محققین نے تحقیقی مقالے پیش کیے، جن میں جھوٹے مقدمات کے الزامات، ان کے قانونی و تفتیشی عمل پر اثرات اور ان سے وابستہ عوامی تصورات کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف اجلاسوں میں ’’قانونی مقدمات اور عدالتی کارروائیاں‘‘، ’’خواتین کی شکایات اور تفتیشی عمل‘‘ اور ’’عوامی بیانیے میں جھوٹے مقدمات‘‘ جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔ POCSO مقدمات، انسانی اسمگلنگ، جنسی ہراسانی، عصمت دری کے مقدمات، انسدادِ مظالم ایکٹ اور گھریلو تشدد سے متعلق قوانین میں جھوٹے مقدمات کے الزامات کے اعداد و شمار کا تجزیہ پیش کیا۔ پولیس شکایات کے تجرباتی شواہد‘‘ اور ’’جھوٹے مقدمات کا بیانیہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے۔ ان نشستوں میں وکلا، محققین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے مسئلے کے قانونی، سماجی اور تجرباتی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔جسٹس مْکتا گپتا اور ایڈووکیٹ وسودھا ناگراج کے درمیان خصوصی نشست کانفرنس کی اہم سرگرمیوں میں شامل رہی۔ جسٹس گپتا نے اپنے عدالتی تجربے کی روشنی میں جھوٹے مقدمات سے متعلق مختلف مسائل اور ان کے عدالتی نقطہ نظر پر اظہار خیال کیا انٹرایکٹو ثقافتی پیشکش بھی پیش کی گئی اس پیشکش کے ذریعے قانون اور صنف کے موضوعات کو تخلیقی اور ثقافتی انداز میں اجاگر کیا گیا۔کانفرنس کے آغاز میں کے ,ایس پی پی ،کی ڈاکٹر وسودھا کٹجو نے استقبالیہ خطاب کیا، جبکہ( کے ایس پی پی) کے ڈین اور سفیر سید اکبرالدین نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ محترمہ گایتری نے اظہارِ تشکر کیا۔کانفرنس میں ماہرینِ تعلیم، قانونی ماہرین، محققین، سماجی کارکنوں اور طلبہ سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق کانفرنس کا مقصد ’’جھوٹے مقدمات‘‘ کے تصور اور قانون و عوامی بیانیے میں اس سے متعلق تصورات کی تشکیل، تفہرہییم اور نمائندگی کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔شرکاء نے کانفرنس کو قانون، تحقیق اور سماجی مباحث کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے اور اس اہم موضوع پر نئی بصیرت فراہم کرنے کی ایک مؤثر کوشش قرار دیا۔