کلکتہ : ای ڈی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ راشن گھوٹالے کی جانچ کے دوران اسے تفصیلات حاصل ہوئی ہے کہ سابق وزیر خوراک اور جنگلات جیوتی پریہ ملک نے نہ صرف اپنی بیوی اور بیٹی بلکہ اپنی بھابھی اور ساس کا بھی راشن کرپشن کی رقم دوسرے شعبوں میں لگانے کیلئے استعمال کیا ہے ۔ای ڈی نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ جیوتی پریہ ملک نے راشن تقسیم گھوٹالہ کیس میں غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی گئی رقم کو جائز بنانے کیلئے ایک بوگس کمپنی کھولی تھی۔ جیوتی پریہ ملک کے قریبی مل کے مالک بقی الرحمان جسے ای ڈی نے گرفتار کیا تھا بھی ان کمپنیوں سے وابستہ تھا۔ ای ڈی کے مطابق ان کمپنیوں کے ذریعے بدعنوانی کا پیسہ بنیادی طور پر دوسرے شعبوں میں لگایا گیا تھا یا شیئرز کا کاروبار کیا گیا تھا۔ تحقیقاتی وزیر کی بیٹی اور اہلیہ ایسی تین کمپنیوں میں مختلف اوقات میں ڈائرکٹرز تھیں۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق جیوتی پریہ کے بہنوئی اور ساس بھی ان تینوں کمپنیوں میں مختلف اوقات میں ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ وزیر کے بہنوئی گریشس انوویٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی میں ڈسمبر 2014 سے اگست 2017 تک ڈائریکٹر تھے ۔ اسی کمپنی میں ان کی ساس نومبر 2011سے جون 2016 تک ڈائرکٹر تھے ۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق، ایک اور کمپنی شری ہنومان ریئلکن پرائیویٹ لمیٹڈمیں، ان کے بہنوئی نومبر 2011 سے ڈسمبر2014 تک عہدے پر فائز تھے ۔
اسی کمپنی میں وزیر کی ساس جون 2016 سے اگست 2017 تک ڈائریکٹر تھیں۔ ایک اور کمپنیگریشس کریشن پرائیویٹ لمیٹڈہے ۔ یہ دونوں وہاں تقریباً پانچ سال بطور ڈائریکٹر رہے ۔