حج 2027 کیلئے پہلی قسط کی جلد وصولی کا فیصلہ باعث تشویش

   

تمام تیاریاں ماہ رمضان کے بعد شروع ہوتی ہیں۔ اگسٹ سے قبل پہلی قسط کی وصولی غیر ضروری
حیدرآباد۔28۔جون(سیاست نیوز) حج سبسیڈی کے نام پر ہندستانی مسلمانوں نے 2018 تک ہندستان کی قومی ائیر لائنس ’ائیر انڈیا‘ کو سنبھالا اور 2018 میں حج سبسیڈی کے خاتمہ کے بعد ائیر انڈیا 4 سال بھی اپنے دم پر باقی نہیں رہی اور 2022 میں ائیرانڈیا کو حکومت نے خانگیانے کا عمل مکمل کرکے اسے خانگی انتظامیہ کے حوالہ کردیا۔ ہندستانی عازمین حج کا کئی دہائیوں تک ’ائیر انڈیا‘ کو سنبھالنے سہارا لینے کے بعد اب ہندستانی عازمین حج سے حکومت ہند ‘ حج کمیٹی کروڑہا روپئے کمانے استعمال کرنے لگی ہے۔ حج 2027 کی پالیسی کی اجرائی کے ساتھ ہی وزارت اقلیتی امور نے ملک میں حج درخواستوں کی وصولی کا اعلان کرکے جولائی کے اختتام تک عازمین کی قرعہ اندازی کا عمل مکمل کرنے و منتخبہ عازمین سے 1 لاکھ 52 ہزار 300 روپئے 10 اگسٹ سے قبل وصول کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ ہندستان بھر سے ایک لاکھ 25ہزار عازمین حج جو حج کمیٹی سے روانہ ہوتے ہیں ان کے انتخاب کے ساتھ ہی ان سے وصولی جانے والی رقم 1904کروڑ ہوتی ہے اور حج کمیٹی و مرکزی وزارت اقلیتی امور 9 ماہ قبل عازمین سے پہلی قسط وصول رہی ہے جو کہ 1 لاکھ 52 ہزار300 کی ہے ۔ملک بھر کے عازمین ماہ اگسٹ میںپہلی قسط ادا کرتے ہیں اور یہ رقومات حج کمیٹی کی جانب سے بینک میں جمع کی جاتی ہے تو 9ماہ کا جو سود بینک کے ذریعہ حج کمیٹی کو حاصل ہوگا وہ 100 کروڑ سے تجاوز کرجائے گا ۔عازمین کو سہولتوں کی فراہمی میں شکایات عام ہیں لیکن عازمین حج کی واپسی کا سلسلہ ختم ہونے سے قبل ہی مئی 2027 حج کیلئے تیاریوں ‘درخواستوں کی وصولی اور 9 ماہ قبل پہلی قسط جمع کروانے کی شرط سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ وزارت اقلیتی امور ائیر انڈیا کو سہارا دے کر اسے فروخت ہونے سے بچائے رکھنے والے مسلمانوں کا استعمال کرکے ملک کی معیشت کو بچانے ان کی دولت کا بالواسطہ استعمال کر رہی ہے ۔حج 2027 رقومات کے سلسلہ میں سوال پر حج کمیٹی کوئی جواب دینے سے قاصر ہے کیونکہ عام طور پر سعودی عرب دوران حج رہائش کے علاوہ دیگر انتظامات کا فوری آغاز نہیں کیا جاتا بلکہ ماہ رمضان المبارک کے بعد سعودی انتظامیہ حج بیت اللہ کیلئے اقدامات کا آغاز کرتا ہے اور سابق میں حج کمیٹی بھی ماہ رمضان المبارک کے بعد ہی حج بیت اللہ سے متعلق سرگرمیوں کا آغاز کیا کرتی تھی لیکن اب مرکزی حکومت عازمین حج کے سفر مقدس کو بھی تجارت اور کمائی کا ذریعہ بنارہی ہے لیکن بیشتر سیاسی قائدین ‘ مذہبی ادارہ ٔ جات اور تنظیموں کے ذمہ دار ملت اسلامیہ کی دولت سے حاصل کی جانے والی اس آمدنی پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔2018 سے قبل عازمین حج کو سبسیڈی کی فراہمی کے نام پر ’ائیر انڈیا‘ کو جو سالانہ رقم فراہم کی جاتی تھی وہ 500 تا 800 کروڑ ہوا کرتی تھی اور اب عازمین سے فی عازم حج 2000/- روپئے متفرق زمرہ کے تحت وصول کئے جا رہے ہیں اور اگر مجموعی طور پر اس کا حساب کیا جائے تو عازمین سے حج کمیٹی 25کروڑ روپئے وصول کر رہی ہے اور اس رقم کے متعلق عازمین کو بھی علم نہیں کہ وہ یہ رقم کس مقصد کیلئے ادا کررہے ہیں ۔عازمین سے وصولی جانے والی رقومات کے معاملات میں فوری شفافیت لائی جانی چاہئے ۔3