حضرت دادا غیب قلندرؒ

   

مولانا سید محمد اطہر علی
آپؒ کا پورا نام خلیفہ و امام حضرت سید یوسف علی شہید ؒ برصغیر کے معروف بزرگ، ولیِ کامل، عالمِ دین تھے۔ آپؒ سے بے شمار کرامتوں کا ظہور ہوتا تھا ۔ جانوروں پرندوں سے بھی کلام کیا کرتے تھے ۔ کم و بیش ۲۵اصلاحات پر آپؒ کو عبور حاصل تھا۔ اور الہام بھی ہوتا تھا۔ آپؒ کی پیدائش ۱۲؍ صفر المظفر ۱۳۴۱؁ ھ وقارآباد میں ہوئی۔ آپؒ آلِ نبیؐ اولاد علیؓ حضرت سید سکندر علی جاگیردار شہید المعروف دست غیب مست قلندرؒ کے فرزند اکبر و جانشین تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، اور دینی علوم میں مہارت حاصل کی اور سلسلۂ تصوف میں بیعت و خلف خلافت سے سرفراز ہوئے۔ آپؒ نے ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ اور لوگوں کی روحانی تربیت میں گزاری۔ آپؒ اپنے حسنِ اخلاق، تقویٰ، سادگی، عبادت اور خدمتِ خلق سے عوام و خواص میں یکساں محبوب تھے۔ آپؒ کے فیوض و برکات سے بے شمار لوگوں نے روحانی رہنمائی حاصل کی۔
حضرت قبلہ اپنے مریدین کو یہی خاص طور پر نصیحت کیا کرتے تھے اللہ کے یہاں حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے اسی لیے ہمیشہ دل سے اللہ کے بندوں کی خدمت کیا کرو۔ آپؒ کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ حضرت قبلہ کے تین صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں ہے۔ چوتھے خلیفہ و جانشین متولی نبیرہ مولانا سید محمد اطہر علی عاشق نما بن اعظم علی المعروف کامل علی نجفی حفیظ اللہ نے آپؒ کی تعلیمات کو بحسن خوبی و خدمت انجام دیتے آرہے ہیں ۔آپؒ کا وصال ۱۴۰۴؁ ہجری ۱۲؍ صفر المظفر، ۱۸ نومبر کو ہوا ۔