حضرت پیرانِ پیرؒ، علم و عمل کا روشن مینار

   

حافظ محمد صابر پاشاہ

تاریخِ اسلام کے دامن میں ایسی بے شمار عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنے علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور اصلاح و تربیت کے ذریعے انسانیت کو خیر و فلاح کی راہ دکھائی۔ اسی سلسلۂ ولایت کی ایک عظیم اور درخشاں شخصیت سلطان الاولیاء، غوثِ اعظم، پیرانِ پیر حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عرفان، عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ اور اصلاح و خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی۔ بغداد کی سرزمین سے بلند ہونے والی آپ کی آواز نے عالمِ اسلام کے بے شمار دلوں کو متاثر کیا اور آپ کی تعلیمات صدیوں سے اہلِ ایمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔حضرت غوثِ اعظمؒ کا ابتدائی عمر ہی سے علم، عبادت اور پاکیزگی سے خصوصی تعلق نمایاں تھا۔ حصولِ علم کی جستجو آپ کو بغداد لے گئی، جو اس زمانے میں اسلامی علوم و فنون کا عظیم مرکز تھا۔آپ نے اکابر علماء سے استفادہ کیا اور فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ مگر آپ کی شخصیت کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے علم کو محض الفاظ اور معلومات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کردار، عمل اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بنایا۔
حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی مجالسِ وعظ و ارشاد میں دور دراز سے لوگ شریک ہوتے۔آپ نے علم کی نشر و اشاعت کے ساتھ ضرورت مند طلبہ کی سرپرستی بھی فرمائی۔ آپ کی مجلس میں آنے والے انسان کو محض وعظ نہیں ملتا تھا بلکہ اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور زندگی کو شریعت و اخلاق کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب ملتی تھی۔
حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی۔ آپ کی زندگی کا مقصد دنیاوی شہرت یا جاہ و منصب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندگانِ خدا کی اصلاح تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی روحانی تربیت میں شریعت کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔ آپ کی تعلیمات میں عبادت کے ساتھ اخلاق، ذکر کے ساتھ عمل، اور روحانیت کے ساتھ خدمتِ خلق کا درس ملتا ہے۔ آپ کی مجلسِ وعظ ایک مدرسہ بھی تھی، خانقاہ بھی اور اصلاحی مرکز بھی۔آپ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زندہ رکھا جائے، نیت کو پاک کیا جائے، نفس کا محاسبہ کیا جائے اور زندگی کو رضائے الٰہی کے مطابق گزارنے کی کوشش کی جائے۔آپ نے اپنی زندگی علم و عمل، عبادت و ریاضت، وعظ و ارشاد اور اصلاحِ معاشرہ میں بسر کی۔ آپ کا وصال ۵۶۱؁ ہجری یں بغداد شریف میں ہوا اور آپ کی تدفین مدرسے کے احاطے میں ہوئی۔آپ دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن آپ کا علمی و روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے صالحین کی سچی محبت عطا فرمائے، ان کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیں علم، عمل، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق کی دولت سے مالامال فرمائے۔آمین بجاہِ سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔