فریدہ بیگم بنت اکبر خان
حضور اکرم ﷺ کی گیارہ (۱۱) ازواجِ مطہرات ہیں ۔ آپؐ نے پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں چالیس سالہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا ۔ اس طرح آپؐ نے پچیس سالہ عرصہ اُنھیں کے ساتھ گذارا پھر اُن کے وصال کے بعد پچپن (۵۵) سالہ خاتون حضرت سودہ رضی اﷲ عنہا سے عقد نکاح فرمایا اور یکم ہجری (۵۴) برس کی عمر شریف میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی رخصتی ہوئی ۔ آپؐ کی تمام ازواجِ مطہرات بیوہ تھیں سوائے حضرت عائشہ ؓ کے ۔
متعدد ازدواج کی مختلف حکمتیں ہیں یہاں ہم تین مقاصد بیان کررہے ہیں: (۱) تبلیغی مقصد (۲) تعلیمی مقصد ( ۳) کفالتی مقصد ۔
(۱) تبلیغی مقصد : نبی کریم ﷺ نے مختلف قبائل کے ایسے افراد کی مقصد صاحبزادیوں سے عقد نکاح فرمایا ، جو اپنے قبیلہ میں ذی اثر تھے اور قبیلہ کے سارے افراد اُن کے تابع تھے تاکہ اس کی برکت سے اُن قبائل کی اسلام دشمنی ختم ہو اور محبت و اُلفت کی راہ ہموار ہو جیسا کہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ آدمی اپنے قرابت داروں سے قربت و تعلق رکھتا ہے اس طرح اُنھیں اسلام کی نعمت سے مالا مال ہونے کا موقع نصیب ہوا ۔
(۲) تعلیمی مقصد : نبی اکرم ﷺ کی پاکیزہ نفیس طبیعت میں حیاء کی صفت کامل طورپر موجود ہے اور عورتوں کیلئے دینی مسائل و احکام کی تعلیم دینا بھی ضروری امر ہے ، حکمت الٰہی یہ تھی کہ ان ازواج مطہرات کے ذریعہ خواتین و دخترانِ ملت تک نبوی معاشرے کی تفصیلات اور خواتین سے متعلقہ خصوصی احکام کی تعلیمات پہنچے ، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ازواج مطہرات کے ذریعہ خواتین کی تعلیم کا انتظام فرمایا ۔ صحابیات اپنے نازک قسم کے مسائل اُمہات المؤمنین کے ذریعہ معلوم کرلیا کرتی تھیں ۔
(۳)کفالتی مقصد : حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے علاوہ باقی جن خواتین کو شرف زوجیت سے نوازا وہ شوہر دیدہ تھیں۔ ان میں اکثر تنگدستی کی زندگی گذار رہی تھیں ، آپؐ نے ان خواتین سے عقد نکاح فرماکر اُن کی کفالت و پرورش کی ذمہ داری لی ، اُن کی تنگدستی کو فراخی سے اور مصیبت کو راحت سے بدل دیا ، اس طرح آپؐ نے ان مقدس خواتین کے لئے معاشرتی طورپر امداد و تعاون کا ذریعہ فراہم کیا ۔
علاوہ ازیں بعض خواتین کے بیوہ ہوجانے کی وجہ سے اسلام پر قائم رہنا مشکل امر بن گیا تھا ، اُن کے خاندان والوں سے اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ اُن کے لئے کہیں مشکلات پیدا نہ کردیں تو نبی کریم ﷺ نے اُن سے عقدنکاح فرماکر اُن کی کفالت اور ایمان کی حفاظت فرمادی ۔