حمایت ساگر و عثمان ساگر کے اطراف تعمیرات کو خطرہ، مالکین خدشات میں مبتلا

   

’’حیدرا‘‘ سے ذخائر آب کا تحفظ اور شکم میں تعمیرات کا جائزہ، بااثر شخصیات کا حکومت پر اثرانداز ہونے کا امکان

حیدرآباد۔11۔اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے مختلف علاقوں میں بالخصوص دیویندر نگر‘شیرلنگم پلی ‘ ویشالی نگر‘ نندگری ہلز کے علاوہ شاستری پورم میں مختلف تالابوں کے تحفظ و احیاء کے لئے کی گئی کاروائیوں کے بعد شہریوں بالخصوص شہر کے نواحی علاقوں میں موجود حمایت ساگر و عثمان ساگر کے اطراف کی گئی تعمیرات کے مالکین کو بھی
خدشات پیدا ہونے لگے ہیں اور وہ اپنی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں فکرمند ہونے لگے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے ’حیدرا‘ کو دیئے گئے اختیارات میں تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات اور سرکاری اراضیات پر قبضہ جات کو برخواست کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے اطراف گذشتہ 10برسوں کے دوران کئے گئے قبضوں میں کی ایسی تعمیرات شامل ہیں جو کہ دونو ذخائر آب میں پانی جمع ہونے کے راستوں میں حائل ہونے لگی ہیں بلکہ بعض تعمیرات تو ان ذخائر آب کے شکم میں تعمیر کی جاچکی ہیں ۔ ریاست میں پیشرو حکومت نے دونوں ذخائر آب کے تحفظ کے لئے متعدد شکایات کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی تھی بلکہ ان ذخائر آب کو تباہی کے دہانے پر لادیا تھا جس کے نتیجہ میں دونوں ذخائر آب میں پانی جمع ہوتے ہی اس کے اخراج کے اقدامات کرنے پڑرہے ہیں کیونکہ دونوں ہی ذخائر آب کے سطح میں ریت جمع ہونے کے نتیجہ میں پانی جلد خطرہ کے نشان سے اوپر پہنچنے لگا ہے اور اطراف کی تعمیرات کو لاحق ہونے والے خطرات کے پیش نظر محکمہ آبرسانی کی جانب سے معمولی بارش سے جمع ہونے والے پانی کے ساتھ ہی ان ذخائر آب سے پانی کے اخراج کے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔’حیدرا‘ کی جانب سے گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران کی گئی ان کاروائیوں کے بعد اب یہ استفسار کیا جانے لگا ہے کہ کیا ’حیدرا‘ کی جانب سے حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے پشتہ کے علاوہ شکم میں کی گئی تعمیرات کو بھی منہدم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے! کیونکہ ان دونوں ذخائر آب کے اطراف کی جانے والی تعمیرات میں بااثر شخصیات شامل ہیں اور وہ حکومت پر اثرانداز ہوتے ہوئے ان کاروائیوں کو رکوا سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جی او 111 کی تنسیخ کے مسئلہ کو لیت و لعل کا شکار بنانے کے بعد پیشرو حکومت کی جانب سے ان تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن تالابوں کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والوں اور نیشنل گرین ٹریبونل کی مداخلت کے سبب ان تعمیرات کو باقاعدہ نہیں بنایا جاسکا ہے۔ویشالی نگر‘ نندی نگر‘ شیر لنگم پلی ‘ دیویندرنگر کے علاوہ شاستری پورم میں جن لوگوں کی جائیدادیں منہدم کی گئی ہیں ان کی جانب سے یہ استفسار کیا جا رہاہے کہ آیا ’حیدرا‘ کے عہدیداروں میں اتنی جرأت ہے کہ وہ شہر کو پینے کے پانی کی سربراہی کرنے والے دو انتہائی اہم اور تاریخی ذخائر آب حمایت ساگر و عثمان ساگر کے اطراف کی جانے والی تعمیرات کوبھی منہدم کریں گے یا ان ذخائر آب کے اطراف موجود تعمیرات کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا!متاثرین کا کہناہے کہ ان کی جائیدادوں کو منہدم کرنے کے لئے کی گئی کاروائی کے دوران یہ استدلال پیش کیاگیا کہ تالابوں میں خریدی گئی جائیداد اور ان میں کی جانے والی تعمیرات مکمل طور پر غیر مجاز ہیں اور ان غیر مجاز تعمیرات کے انہدام کے لئے کوئی نوٹس دینے کی ضرورت نہیں ہے اسی لئے ’حیدرا‘ کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ان تعمیرات کو منہدم کیاگیا ہے جو زیر تعمیر تھیں اور جن عمارتوں میں کوئی موجود نہیں تھا اور جن تعمیرات یا عمارتوں میں لوگ موجود ہیں انہیں تخلیہ کی نوٹس دی گئی ہے تاکہ انہیں منہدم کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہولیکن کیا مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں اور ’حیدرا‘ کے عہدیداراسی طرح کی کاروائی ان علاقوں میں بھی انجام دیں گے جہاں سرکردہ بااثر شخصیات نے اپنے مکان تالاب کے پشتوں پر یا شکم میں بنوائے ہیں اور اپنے مکانات اور ریکریشن کلبس کے ذریعہ تالابوں کا خوبصورت نظارہ کرتے ہیں!چند برس قبل تیار کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے اطراف میں 10 ہزار غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیرات ہیں جن میں بعض کنونشن سنٹرس اور شادی خانہ کے طور پر چلائے جانے والے فارم ہاؤز بھی شامل ہیں جو کہ اصولوں و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کئے گئے ہیں۔ان ذخائر آب میں جمع ہونے والے پانی کے راستوں کو روکنے اور سڑکوں پر پانی کے بہاؤ بالخصوص آؤٹر رنگ روڈ کے بعض حصوںمیں جہاں سڑک کے نیچے پانی جمع ہوتا ہے اس کے لئے یہ تعمیرات ہی ذمہ دار ہیں لیکن اس کے باوجود ان تعمیرات کومنہدم نہیں کیاگیا ہے۔3