نیو یارک ، پیرس اور لندن میں برقی گل ہوسکتی ہے مگر حیدرآباد میں نہیں ہوگی ، میٹرو ریل کے دوسرے مرحلے کا سنگ بنیاد
حیدرآباد ۔ 9 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد شہر حیدرآباد کو پاور آئی لینڈ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ نیویارک ، پیرس اور لندن میں برقی سربراہی منقطع ہوسکتی ہے مگر حیدرآباد میں برقی سربراہی منقطع نہیں ہوگی ۔ مستقبل میں حیدرآباد آوٹر رنگ روڈ کے اطراف میٹرو ریل کو توسیع دینے کا اعلان کیا ۔ مائینڈ اسپیس تا شمس آباد ایرپورٹ تک 31 کلو میٹر میٹرو ریل کی توسیع پروگرام کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد راجندر نگر پولیس اکیڈیمی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد رقبے اور آبادی کے لحاظ سے قومی دارالحکومت دہلی سے بڑا ہے ۔ انہیں میٹرو ریل کے توسیعی پروگرام کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے بے حد خوشی ہورہی ہے ۔ مستقبل میں حیدرآباد رنگ روڈ کے اطراف واکناف میٹرو ریل کو توسیع دی جائے گی ۔ مرکزی حکومت اس پراجکٹ کے لیے تعاون کریں یا نہ کریں ریاستی حکومت اپنے ذاتی اخراجات سے عوام کو ٹرانسپورٹ نظام کی بہتر سے بہتر سہولت فراہم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی اپنی ایک تاریخ ہے اور یہ سچائی بھی ہے ۔ چینائی کے بشمول ملک کے دسرے شہروں سے قبل حیدرآباد میں 1912 کو برقی سربراہ ہوئی تھی جب کہ 1927 میں چینائی کو برقی سربراہ ہوئی تھی ۔ حیدرآباد ملک کا حقیقی کاسمو پولیٹن شہر ہے جہاں پر تمام مذاہب ، ذات ، پات علاقوں کے عوام رہتے ہیں ۔ مختلف زبانیں بولنے والے لوگ حیدرآباد میں مل جاتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کرنے والے اداروں جی ایچ ایم سی ، ایچ ایم ڈی اے ، جی ایم آر اور دیگر اداروں سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے حیدرآباد کو دنیا کا سب سے محفوظ شہر قرار دیا ۔ یہ شہر ملک کے کسی بھی دوسرے شہر کے برعکس ایک حیرت انگیز معتدل آب و ہوا پر مشتمل شہر ہے ۔ متحدہ آندھرا پردیش میں حیدرآباد کی ترقی کو نظر انداز کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے توقع کے مطابق حیدرآباد کی ترقی نہیں ہوئی ہے ۔ ماضی میں شہر میں پینے کے پانی کی قلت تھی جس پر قابو پالیا گیا ہے ۔ میٹرو ریل سے روزانہ 4.5 لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں ۔ شہر کو آلودگی سے پاک بنانے میں میٹرو ریل معاون ثابت ہوگی ۔ حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف بڑے پیمانے پر صنعتی شعبہ کو ترقی دی جارہی ہے ۔ آئی ٹی شعبہ کو منظم انداز میں ترقی دی جارہی ہے ۔ 500 سے زائد بڑے کمپنیاں قائم ہوئی ہیں ۔ ٹریفک مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے ۔ جس سے تعمیری کاموں میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ حیدرآباد کو ملک کا مثالی شہر بنانے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے ترقیاتی کام انجام دئیے جارہے ہیں ۔ اس کیلئے حکومت بڑے پیمانے پر فنڈز جاری کرے گی ۔ ورلڈ گرین سٹی کا ایوارڈ حیدرآباد کو حاصل ہوا ہے ۔ فتح اللہ گوڑہ میں ہندو ، مسلم اور کرسچن طبقات کیلئے تعمیر کردہ مکتی گھاٹ قابل ستائش ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو ان کے مذہبی رسم و رواج کے تحت تدفین اور آخری رسومات انجام دینے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے ۔۔ ن