پہلے تو زندگانی کی مانگی دعا
زندگانی ہی پھر دردِ سر ہوگئی
مودی حکومت نے خواتین تحفظات کے مسئلہ کو ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنادیا ہے اور اس پر سیاست کرتے ہوئے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ لوک سبھا میں خواتین تحفظات کے نام سے پیش کئے گئے بل کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیںہوسکی اور یہ مسئلہ ایک بار پھر التواء کا شکار ہوگیا حالانکہ اس پر کسی مزید قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں تھی اور صرف پہلے سے پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرچکے قانون پر من و عن عمل کرنے کا سوال تھا ۔ حکومت خواتین تحفظات کے نام پر سیاست کرتے ہوئے خاص طور پر ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میںانتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کے عزائم بھی پوری طرح سے واضح ہوگئے ہیں۔ جس طرح سے لوک سبھا میں بل کی ناکامی کے بعد بی جے پی کی جانب سے مہم شروع کردی گئی ہے اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ حکومت کا اصل مقصد بل کو منظوری دلانا یا ملک کی خواتین کو حقیقی معنوں میں تحفظات فراہم کرنا نہیں تھا بلکہ وہ اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی اور اس کا اب آغاز بھی کردیا گیا ہے ۔ بل کی ناکامی کی دوسری صبح سے ہی ملک کے کئی شہروں میں اپوزیشن کے خلاف پوسٹرس اور بیانرس لگادئے گئے ہیں۔ اپوزیشن قائدین کے خلاف احتجاجی مظاہروںکا آغاز کردیا گیا ہے اور وزیر اعظم نے بھی خواتین سے ہمدردی دکھاتے ہوئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس وقت مکمل سکوت و خاموشی اختیار کی تھی جب منی پور میں خواتین کو برہنہ کرتے ہوئے پریڈ کروائی گئی تھی ۔ وزیر اعظم نے اس وقت خاموشی اختیار کی ہوئی تھی جب بی جے پی کے ذمہ دار قائدین کے خلاف عصمت ریزی کے الزامات سامنے آئے تھے ۔ تاہم اب محض انتخابات میںفائدہ حاصل کرنے کی غرض سے وزیر اعظم سامنے آگئے اور خواتین سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ یہ سب کچھ خواتین سے ہمدردی کیلئے نہیں بلکہ محض انتخابی فائدہ کیلئے کئے جارہے اقدامات ہیں۔ جب منی پورمیںخواتین کو برہنہ کیا گیا سارے ملک میں غم و غصہ تھا لیکن وزیر اعظم خاموش ہی رہے تھے ۔
جہاں تک خواتین تحفظات کا مسئلہ ہے تو اس کا قانون پارلیمنٹ میں پہلے ہی منظور ہوچکا ہے ۔ اس پر مزید کسی قانون سازی کی ضرورت باقی نہیں ہے بشرطیکہ حکومت اس کو لاگو کرنے میں سنجیدہ ہو ۔ حکومت نے خواتین کے جذبات کا استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس کو حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی کے مسئلہ سے جوڑ دیا ہے جبکہ اس کی کوئی ضرورت نہیںہے ۔ حلقہ جات کی تازہ حد بندی کا مسئلہ بالکل مختلف ہے اور خواتین تحفظات پر عمل آوری کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہے ۔ تاہم حکومت اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلئے خواتین اور ان کے جذبات کا استحصال کرنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے بل کو توڑ مروڑ کر لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور حکومت پہلے ہی سے اس حقیقت سے واقف تھی کہ اپوزیشن جماعتیں اس کے انتخابی اور سیاسی ایجنڈہ کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیں گی ۔ اس کے باوجود یہ بل پیش کرتے ہوئے خواتین سے ہمدردی کا ڈرامہ رچا گیا تھا اور بل کی ناکامی کے بعد سارے ملک میںسیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوںکو تیز کردیا گیا ہے ۔ خاص طور پر ٹاملناڈو اور مغربی بنگال میں خواتین کو رجھانے کیلئے یہ مسئلہ اچھالا جا رہا ہے اور خواتین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ سارا ملک جانتا ہے کہ جس وقت خواتین تحفظات بل کو کانگریس کی زیر قیادت حکومت میںمنظوری دی گئی تھی اس وقت بی جے پی نے ہی شدت کے ساتھ اس کی مخالفت کی تھی اور اس پر عمل آوری کی راہ میں کئی رکاوٹیں کھری کی گئی تھیں۔
انتخابی فائدہ حاصل کرنے اور سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلیء جس طرح سے ملک کی خواتین کا استحصال کرنے کی حکومت کی جانب سے کوشش کی گئی ہے اس کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ خاص طور پر مغربی بنگال اور ٹاملناڈو کی خواتین کو حکومت کے حقیقی منشاء کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس کے استحصال اور جذبات کا شکار ہوئے بغیر ہوش و حواس کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے ۔اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کون ان کا حقیقی ہمدرد ہے اور کون محض ان کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے اپنے عزائم اور ایجنڈہ کی تکمیل کرنا چاہتا ہے ۔ دکھاوے کی سیاست کرنے والوں کو ناکام بنایا جانا چاہئے ۔