خیریت اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں مسلم رائے دہندوں کا فیصلہ کن موقف

   

بی سی اور ایس سی کی قابل لحاظ آبادی، الیکشن کیلئے کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی متحرک

حیدرآباد۔ 27 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ڈی ناگیندر کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کے بعد خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی انتخاب یقینی ہوچکا ہے۔ تین اہم پارٹیوں کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے اور امیدوار کے انتخاب کے سلسلہ میں مشاورت شروع کردی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹ کے فیصلے سے واقف کرایا گیا ہے اور اسمبلی نشست کے مخلوعہ ہونے کی اطلاع دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ فروری 2027 میں دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ الیکشن کمیشن خیریت آباد کا ضمنی چناؤ کرائے گا۔ قواعد کے مطابق الیکشن کمیشن نشست کے مخلوعہ ہونے کے اندرون 6 ماہ ضمنی چناؤ کا اہتمام کرتا ہے۔ کانگریس کے تلنگانہ میں برسر اقتدار آنے کے بعد حیدرآباد میں یہ تیسرا ضمنی چناؤ ہے۔ سکندرآباد کنٹونمنٹ اور جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ جات کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے لہذا پارٹی خیریت آباد میں بھی کامیابی کے بارے میں پرامید ہے۔ خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں کسی بھی پارٹی کی کامیابی میں اقلیت، پسماندہ طبقات اور درجہ فہرست اقوام کے رائے دہندوں کا اہم رول رہے گا۔ اس حلقہ میں مسلمان اور عیسائیوں کے علاوہ پسماندہ طبقات کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ گزشتہ دو انتخابات میں بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی تھی تاہم ناگیندر نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات پر توجہ مرکوزکریں گے۔ SIR مہم سے قبل حلقہ میں مسلمانوں کی تعداد 75 ہزار سے زائد تھی جبکہ بی سی رائے دہندے 85 ہزار اور ایس سی رائے دہندوں 65 ہزار درج کئے گئے تھے۔ SIR مہم کے پہلے مرحلہ کے بعد فہرست رائے دہندگان 2.93 لاکھ سے گھٹ کر 1.7 لاکھ ہوچکی ہے۔ فہرست رائے دہندگان کے مسودہ سے 1.23 لاکھ نام حذف کردیئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد 30 تا 40 فیصد نام دوبارہ فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمشین نے 81 ہزار افراد کو نوٹس جاری کی ہے۔ ڈی ناگیندر کانگریس سے ٹکٹ کے بارے میں پرامید ہیں کیونکہ امیدواری کے تیقن پر انہوں نے سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس ٹکٹ پر مقابلہ کیا تھا۔ 1؍F