معاشرہ میں بگاڑ کا بنیادی سبب موت کو بھلا دینا ہے: مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد ، 2 ۔ اکتوبر (راست) ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو‘۔انسان جو لذّات حاصل کرتا ہے وہ صرف چند لمحات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان لذّات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ سورۃ الأنبیاء آیت 35 میں اللہ فرماتا ہے کہ ’’ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘۔ اس آیت میں موت کو ذائقہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔دنیا میں جتنے ذائقے ہیں، وہ سب ختم ہوجائیں گے، لیکن موت کا ذائقہ تو بالآخر چکنا ہی ہے۔ آج ہمیں دوسروں کی تو بہت فکر ہوتی ہے، ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانک جھانک کر دیکھتے ہیں، ان کے معاملات پر گفتگو کرتے ہیں، ان کی خامیاں تلاش کرتے ہیں، لیکن اپنی زندگی اور اپنے انجام پر کم ہی غور کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ موت کو ایک واقعہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے اپنی اصلاح اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ بناتے تھے۔ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے تھے۔ ہم بھی دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے اعمال پر نظر رکھیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن محمد الحمومی القادری (امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام)نے شاہی مسجد باغ عام میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا ہے۔ مولانا ڈاکٹر حافظ احسن الحمومی نے کہا کہ دنیا کی محبت اور موت کے خوف نے انسان کو بدکردار بنا دیا ہے۔ قوم مسلم آج موت کو بھول چکی ہے۔ معاشرہ کی بگاڑ کی بنیادی وجہ موت کو فراموش کردینا ہے۔رسول اللہؐ نے فرمایا کہ بہترین عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ اپنی آخرت کے فائدہ کے پیش نظر رکھ کر کرتا ہے۔ آج ہمارے معاشرہ میں گناہوں کی کثرت ہے اور گناہوں کے بارے میں کراہیت بھی خْتم ہوگئی ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیطان عام ہے اور جادہ ٹونا کیا جارہا ہے۔ یقین مانیے جس سوسائٹی میں شیطان کو خوش کیا جارہا ہو، وہاں شیطان ضرور ہوگا۔ ہمیں فرشتوں کا احساس نہیں۔ ان کی جانب سے ہمارے نامہ اعمال کو لکھنے کا احساس نہیں۔ تو ہم اللہ کی رحمت و برکت کے نزول کی امید کیوں کرکرتے ہیں۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ اہلِ اللہ لوگوں کو موت کی یاد دلا کر انہیں غفلت سے بیدار کرتے ہیں اور آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اللہ کے پاس جانے کی تیاری کرناہے۔ اگر ہم مضبوط چٹانوں میں بھی بھی محفوظ ہوں یا ہم جہاں بھی ہوں گے، ہمیں ہماری موت آ پکڑے گی۔