مکہ مکرمہ ۔ 29 مئی (ایجنسیز) میں ان کے پاس بیٹھتی ہوں، ان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی ہوں اور سونے کے وقت بھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ ان الفاظ کے ساتھ 70 سالہ سوڈانی خاتون حاجی مریم النور نے اس سال حج کے دوران اپنی نوے سالہ والدہ، رقیہ ابو لکر کے ساتھ رہنے کی کہانی سنائی۔ ستر سال کی عمر کا عمر رسیدہ ہونا بھی انہیں اس سال حج کے پورے ایمانی سفر کے دوران اپنی نوے سالہ ماں کی دیکھ بھال کرنے سے نہ روک سکا۔ وہ اپنی ماں کے آرام کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہیں اور حسنِ سلوک اور نیکی کے معانی کی عملی تصویر بن گئی ہیں۔سعودی پریس ایجنسی واس کی جانب سے شائع کردہ ایک صحافتی رپورٹ کے مطابق سوڈانی خاتون حاجن مریم النور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ رہنے اور ان کی تمام نقل و حرکت میں ان کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کی۔ میں رہائش گاہ، حرم اور مشاعر مقدسہ میں ان کے ساتھ رہی۔ میں نے اجر و ثواب کی امید میں کسی دوسرے شخص اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی ان کی خدمت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ریاستِ خرطوم سے تعلق رکھنے والی مریم النور نے بتایا کہ میری والدہ کی عمر نوے سال سے زیادہ ہے، ان کے 9 بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
میں ان میں سب سے بڑی ہوں اور ہم سب ان کی خدمت کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تھے۔ وہ میرے ساتھ میرے گھر میں رہتی ہیں اور جب حج کا موقع آیا تو میں نے ان کے ساتھ آنے کا پختہ عزم کرلیا۔ میں ان کے پاس بیٹھتی ہوں، ان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی ہوں اور سونے کے وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی۔ میں اپنی والدہ کی خدمت کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس کرتی ہوں۔ اس سب کیلئے میں اللہ سے اجر اور ثواب کی امید رکھتی ہوں۔