اضافی قیمتوں سے مایوسی، عید سے عین قبل قیمتوں میں کمی کا امکان
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں عیدالاضحی کے سلسلہ میں جانوروںکی آمد اور فروخت میں تیزی پیدا ہوچکی ہے۔ شہر کے کئی مقامات پر باقاعدہ مارکٹس قائم کئے گئے جہاں مختلف ریاستوں سے لائے ہوئے بکروں کی فروخت کا انتظام ہے۔ اب جبکہ عید کیلئے دو دن باقی ہے ، عوام کو قیمتوں میں کمی کا انتظار ہے۔ عام طورپر عید سے تین دن قبل شہر میں بکروں کی آمد کا آغاز ہوجاتا ہے اور ابتدائی مرحلہ میں زائد قیمت پر فروخت کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلہ اس مرتبہ بڑی تعداد میں بکروںکی منتقلی ہوئی ہے اور کئی نئے افراد بھی اس تجارت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ 12 تا 15 کیلو گوشت کے بکروں کو 15 ہزار روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ بعض مقامات پر یہ بکرے 25 ہزار روپئے میں جوڑی فروخت ہورہے ہیں۔ حیدرآباد میں چنچل گوڑہ ، نانل نگر ، مہدی پٹنم ، فلک نما ، خلوت ، چندرائن گٹہ ، شاہین نگر ، کشن باغ ، مشیر آباد ، اعظم پورہ ، بنجارہ ہلز ، زہرہ نگر ، بورا بنڈہ ، اے سی گارڈ اور ٹولی چوکی میں بکروںکی فروخت منظم انداز میں دیکھی گئی۔ کئی افراد شہر کے مضافاتی علاقوں اور اطراف کے اضلاع پہنچ کر بکروں کی خریداری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے مقابلہ نواحی علاقوں میں قیمتیں کم ہیں۔ تلنگانہ کے اضلاع کے علاوہ مہاراشٹرا اور کرناٹک سے بکرے اور بڑے جانور حیدرآباد منتقل کئے گئے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بڑے جانوروں کی فرو خت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پولیس اور بلدی حکام کی جانب سے پرانے شہر کے بعض علاقوں میں بڑے جانوروں کی فروخت میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عوامی نمائندوں کی مداخلت کے بعد ضروری دستاویزات کا جائزہ لے کر فروخت کی اجازت دی گئی۔ بعض مقامات پر بلدیہ کی جانب سے چالان کیا گیا۔ سڑک پر بڑے جانوروں کو رکھنے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ عید سے ایک دن قبل مزید جانور حیدرآباد منتقل کئے جاسکتے ہیں جس کے بعد بکرے کی قیمت میں کمی واقع ہوگی۔ عوام میں زیادہ تر مانگ تلنگانہ کے بکروں کی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں کورونا وباء کے پیش نظر بڑے اور چھوٹے جانوروں کی تجارت متاثر ہوئی تھی۔ دو سال کے وقفہ کے بعد تاجروں کو امید ہے کہ اس مرتبہ بہتر کاروبار ہوگا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر منافع کی لالچ میں کئی نئے افراد کاروبار میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجہ میں قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے۔ ر