دہلی ایل جے نے دہشت گرد تنظیم سے فنڈز حاصل کرنے کے معاملے میں کجریوال کے خلاف کی این ائی اے جانچ کی سفارش

,

   

اے اے پی نے الزام لگایا کہ یہ سفارش بی جے پی کے کہنے پر کیجریوال کے خلاف ’’ایک اور سازش‘‘ ہے۔

نئی دہلی: راج نواس کے ذرائع نے پیر 6 مئی کو بتایا کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے خلاف ممنوعہ دہشت گرد تنظیم ‘سکھس فار جسٹس’ سے سیاسی فنڈنگ حاصل کرنے کے الزام میں این آئی اے کی جانچ کی سفارش کی ہے۔

اے اے پی نے الزام لگایا کہ یہ سفارش بی جے پی کے کہنے پر کجریوال کے خلاف ’’ایک اور سازش‘‘ ہے۔


مرکزی داخلہ سکریٹری کو لکھے ایک خط میں، لیفٹننٹ گورنر کے سکریٹریٹ نے کہا کہ سکسینہ کو شکایت ملی تھی کہ کجریوال کی قیادت والی اے اے پی نے مبینہ طور پر دیویندر پال بھلر کی رہائی میں سہولت کاری کے لیے انتہا پسند خالصتانی گروپوں سے 16 ملین امریکی ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے۔


بھولر، جو امرتسر سینٹرل جیل میں ہے، دہلی میں 1993 میں ایک بم دھماکے میں نو افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اسے 25 اگست 2001

کو ایک نامزد ٹاڈا عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی، اور سپریم کورٹ نے اس کی سزائے موت کو تبدیل کرنے کے بعد عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔


ذرائع کے مطابق سکسینہ نے خط میں کہا ہے کہ “شکایت کنندہ کی طرف سے جو الیکٹرانک شواہد جمع کیے گئے ہیں ان کے لیے تحقیقات کی ضرورت ہے جس میں فارنسک جانچ بھی شامل ہے۔”


خط میں کہا گیا ہے کہ شکایت ایک وزیر اعلیٰ کے خلاف کی گئی ہے اور اس کا تعلق ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم سے ملنے والی سیاسی فنڈنگ سے ہے۔


یہ اقدام لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کیجریوال کو عبوری ضمانت دینے پر غور کرنے کے سپریم کورٹ سے ایک دن پہلے آیا ہے۔ اے اے پی کے سربراہ، جو تہاڑ جیل میں ہیں، کو ایکسائز پالیسی سے منسلک منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا۔


اس شکایت کا حوالہ خالصتانی دہشت گرد گروپتونت سنگھ پنن کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو کا ہے، جہاں اس نے الزام لگایا کہ کیجریوال کی قیادت والی اے اے پی نے 2014 اور 2022 کے درمیان خالصتانی گروپوں سے 16 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے، ذرائع نے بتایا۔


ایل جی کو دی گئی شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ کیجریوال نے 2014 میں اپنے دورے کے دوران گرودوارہ رچمنڈ ہلز، نیویارک میں خالصتانی لیڈروں کے ساتھ بند کمرے میں ملاقاتیں کیں۔ کجریوال نے مبینہ طور پر کافی مالی امداد کے بدلے میں بھولر کی رہائی میں سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

خالصتانی دھڑوں کی اے اے پی کی حمایت۔
ذرائع کے مطابق شکایت میں کہا گیا، سوشل میڈیا پر پوسٹس کی ایک سیریز میں، ایک سابق اے اے پی کارکن، منیش کمار رائزادہ نے بھی خالصتانی رہنماؤں کے ساتھ کجریوال کی ملاقات کی مبینہ تصویریں شیئر کیں، ۔


اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، اے اے پی لیڈر اور دہلی کے وزیر سوربھ بھردواج نے اسے “بی جے پی کے کہنے پر کیجریوال کے خلاف ایک اور سازش” قرار دیا۔


انہوں نے کہا کہ وہ دہلی کی تمام سات سیٹیں ہار رہے ہیں اور لوک سبھا انتخابات میں شکست کے خوف سے پریشان ہیں۔


بھولر کو جون 2015 میں صحت کی بنیاد پر دہلی کی تہاڑ جیل سے امرتسر سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا۔