دہلی سے گھر واپسی کا آغاز

   

یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا
ایران جنگ کی وجہ سے جو حالات پیدا ہونے لگے ہیں بھلے ہی حکومت کی جانب سے ان کا اعتراف نہ کیا جا رہا ہوا ور یہ دعوے کئے جا رہے ہوں کہ گیس اور پٹرولیم اشیاء کی سپلائی ضرورت کے مطابق جاری ہے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے اور یہ اب کھل کر واضح بھی ہونے لگی ہے ۔ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے مشرق وسطی کے حالات پر پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں عوام کو جس طرح کورونا کے دور میں مشکلات کا سامنا کیا گیا تھا اسی طرح کی صورتحال کیلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہی حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ کورونا کے دور میں غیر مقامی مزدوروں اور دیگر افراد کی ملک کے مختلف شہروں سے اپنے آبائی مقامات کو واپسی کے سفر اور مناظر کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔ اس واپسی کے دوران کئی مزدور اپنی جانیںتک گنوا بیٹھے تھے اور انہیں کسی طرح کی سہولت نہیں تھی ۔ بھوکے اور پیاسے یہ لوگ پیدل ہی اپنے آبائی مقامات کو واپس ہونے لگے تھے اور راستے میں ٹرین کی ٹکر سے بھی اموات ہوئی ہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ یہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور کم از کم دہلی میں یہ صورتحال واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہے ۔ شمالی ہند کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جو دارالحکومت دہلی میں تلاش روزگار کیلئے مقیم تھے اور مختلف کام کیا کرتے تھے اب وہ گیس کی قلت کی وجہ سے اپنے آبائی مقامات کو واپسی کا سفر اختیار کر رہے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دہلی میں انہیں گیس دستیاب نہیں ہو رہی ہے ۔ اگر کہیں دستیاب ہے بھی تو اس کیلئے بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے اور وہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ ان کے اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے اور ان کی کمائی بھی متاثر ہونے لگی ہے ۔ زیادہ تر افراد ڈرائیونگ پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ سی این جی دستیاب نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی پکوان گیس دستیاب ہے ۔ انہیں اس کیلئے بھاری اضافی پیسے بھی ادا کرنے پڑ رہے تھے اور ان کی جیب اس بوجھ کو برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔
مرکزی حکومت اور اس کے حواریوں کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں گیس کی کوئی قلت نہیں ہے اور مناسب ذخائر موجود ہیں۔ خود ملک کے دارالحکومت دہلی میں یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ اب وہاں سے غیر مقامی مزدور اپنے گھروں کو واپسی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے وقت ڈبل انجن کی دہائی دینے والی بی جے پی دہلی میں اور مرکز میں برسر اقتدار ہے ۔ اس کے باوجود دہلی میں حکومت کی ناک کے نیچے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہاں سے لوگ آبائی مقامات کو منتقل ہو رہے ہیں ۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حالات عوام کیلئے مشکل ہوگئے ہیں اور اب عوام اس کے اثرات اپنی زندگیوں پر بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ ملک کی کسی اور ریاست میں یہ صورتحال ہوتی تو پھر بھی کچھ وجوہات بتائی جاسکتی تھیں تاہم خود قومی دارالحکومت میں اس طرح کی صورتحال پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ عوامی سطح پر بھلے ہی حکومت کی جانب سے مشکلات کا اعتراف نہ کیا جائے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عوام پر اب منفی اثرات واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں اور لوگ اس کی وجہ سے مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ حکومت کو اس صورتحال کا فوری نوٹ لیتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کو حالات کی مار سہنے کیلئے تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ اس جانب توجہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
جو غیر مقامی مزدور ہوتے ہیں وہ نہ صرف اپنے لئے روزی روٹی کماتے ہیں بلکہ جس ریاست میں وہ کام کرتے ہیں اس کی ترقی اور اس کے معاشی نظام کو مستحکم کرنے میں بھی اپنی محنت کے ذریعہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ جس طرح سے کورونا کے دور میں مزدوروں کی اپنے آبائی مقامات کو واپسی کی وجہ سے کئی ریاستوں میں کام ٹھپ ہو کر رہ گئے تھے اسی طرح کی صورتحال ایک بار پھر پیدا ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں اور یہ ملک کی معیشت کیلئے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ جو صورتحال آج دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئی ہے وہ کل ملک کی دوسری ریاستوں اور شہروں میں بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ حکومت کو حالات قابو سے باہر ہونے سے پہلے حرکت میں آنا چاہئے اور حالات کو بہتر بنانے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔