دہلی کی عدالت نے قطب مینار پر مندروں کی بحالی کی عرضی پر فیصلہ موخر کردیا

,

   

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس درخواست کی مخالفت کی ہے‘ عرض کیا کہ”کسی بھی اراضی کی کسی بھی حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنیاد ی حقوق حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں“


نئی دہلی۔ دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز قطب مینار کی عمارت میں ہندو اورجین مندروں اور دیوتاؤں کی بحالی کی درخواست اپنا فیصلے کو موخر کردیاہے۔

سنوائی کے دوران قومی درالحکومت کی مذکورہ ساکت عدالت نے مشاہدہ کیاکہ ایک تازہ درخواست میں اس معاملے میں دائر کی گئی ہے اور اسی کے بموجب 24اگست تک معاملے کو موخرکردیاہے۔

اس سے قبل 24مئی کے روز اس معاملے پر تفصیلی سنوائی کے بعد ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ نکھل چوپڑا قطب مینار کی عمارت کے اندر واقعہ مسجد قوت السلام کومندر کی عمارت منہدم کرکے تعمیر کرنے کے الزامات پر مسترد مقدمہ کو چیالنج کرنے والی درخواست پر احکامات کو محفوظ کردیاتھا۔

درخواست گذار کا الزام تھا کہ 27ہند واو رجین منادر1198میں مغل بادشاہ قطب دین ایبک کے دور میں ڈھائے گئے ہیں‘ ان منادر کو منہدم کرتے ہوئے مذکورہ مسجد کی تعمیر کی گئی ہے۔آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس درخواست کی مخالفت کی ہے‘ عرض کیا کہ”کسی بھی اراضی کی کسی بھی حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنیاد ی حقوق حاصل نہیں کیے جاسکتے ہیں“۔

اے ایس ائی کی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ میں لکھا ہے کہ ”یہ قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے مقامات او رباقیات ایکٹ(اے ایم اے ایس آر ایکٹ) 1958کی دفعات کے منافی ہوگاتاکہ جواب دہندگان یا اس مرکزی طور پرمحفوظ یادگارمیں عبادت کرنے کے بنیادی حق کا دعوی کرنے والے کسی دوسرے شخص کے تنازعہ سے اتفاق کیاجائے“۔

اس سے قبل 22فبروری کے روز درخواست کو ایڈیشنل ضلع جج پوجا تلوار نے منظوری دیتے ہوئے وزرات ثقافت کے ذریعہ حکومت ہند‘ ڈائرکٹر جنرل آف آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا‘سپریڈنٹنگ آرکیالوجسٹ‘ دہلی سرکارل‘ اے ایس ائی کو نوٹس جاری کیاتھا۔