رام مندر کے سنگ تراشوں میں مسلمان بھی شام

   

آگرہ:جیسے جیسے ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کی تاریخ قریب آرہی ہے، اتر پردیش کے فتح پور سیکری اور کھیرا گڑھ میں کاریگر دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ مندر میں استعمال ہونے والے سرخ ریت کے پتھر پر منفرد نقش و نگار بنائیں۔ ان کاریگروں میں کئی مسلمان مرد بھی شامل ہیں جنہوں نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ان کے فن کو رام مندر کی تعمیر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ ان کاریگروں میں شامل ہیں جو مندر میں نصب کیے جانے والے ستونوں کو ہاتھ سے تراش رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق آگرہ کی دو کمپنیوں، جئے کنسٹرکشنز اور راجپوت انٹرپرائزز کے 65 کاریگر رام مندر کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ یہ کاریگر روایتی اوزاروں کا استعمال کرتے ہوئے سرخ بلوا پتھر تراشتے ہیں۔ان میں مسلمان کاریگر بھی شامل ہیں۔ کام کی نگرانی کر رہے کشن سوروپ نے کہا کہ اب تک تقریباً 500 کیوبک فٹ پتھر تیار کیا جا چکا ہے۔ ایک کاریگر شلپی مہاویر سنگھ نے بتایا کہ وہ دو سال سے مسلسل ان پتھروں کو تراش رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افتتاح کی تاریخ طے ہونے کے ساتھ ہی کام تیز رفتار سے کیا جائے گا۔ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح 22 جنوری 2024 کو ہوگا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ فتح پور سیکری اور آگرہ کے دیگر علاقوں کے سرخ بلوا پتھر نہ صرف رام مندر کی تعمیر میں بلکہ پرانی پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر میں بھی استعمال ہوا تھا۔