بی آر ایس کے قائد شیخ عبداللہ سہیل کا اسد الدین اویسی سے مطالبہ ۔ پولیس تحقیقات پر زور
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر قائد شیخ عبداللہ سہیل نے مجلس کی جانب سے اپنے ایم ایل سی رحمت بیگ کو پارٹی سے فوری اثر کے ساتھ خارج کرنے اور ایم ایل سی نشست سے مستعفی ہوجانے کا حکم دینے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مجلس کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد الدین اویسی سے مطالبہ کیا کہ وہ رحمت بیگ کو پارٹی سے کیوں برطرف کیا گیا اور کونسل کی نشست سے استعفیٰ کیوں طلب کیا جارہا ہے ۔ اس کی عوام کے سامنے وضاحت کریں ۔ اگر انہوں نے کوئی سنگین جرم کیا ہے تو صرف پارٹی سطح پر کارروائی کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کراتے ہوئے قصور پائے جانے پر سخت قانونی کارروائی بھی کی جائے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ رحمت بیگ کے تعلق سے سوشیل میڈیا میں کئی باتیں سننے میں آرہی ہیں ۔ پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ اس کی وضاحت کریں ۔ محض پارٹی سے برطرف کردینا کافی نہیں ہے ۔ عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک منتخب ایم ایل سی کے خلاف اتنی سخت کارروائی کیوں کی گئی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر رامچندر راؤ نے سنگین الزامات عائد کیا ہے اور ساتھ ہی رحمت بیگ کو ووٹ دینے پر بی آر ایس اور کانگریس سے بھی وضاحت طلب کی ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے کے بیٹے کے معاملے میں بی آر ایس اپنے موقف کا اظہار کرچکی ہے ۔ اگر یہ بھی اس طرح کا معاملہ ہے تو بی آر ایس کا موقف تبدیل نہیں ہوگا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس کبھی کسی غلط کام کی طرف داری نہیں کرتی جو غلط ہے وہ غلط ہے ۔ تب بھی بی آر ایس نے پولیس تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ۔ رحمت بیگ کے معاملے میں بھی پولیس تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ اگر رحمت بیگ قصور وار ہیں تو اسد الدین اویسی کھل کر سامنے آئے معطلی پر اکتفا کرنے کے بجائے ڈی جی پی اور پولیس کمشنر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کرائے اور پولیس جانچ کے ذریعہ تمام سچائی عوام کے سامنے لائے ۔۔ 2/m/b