ماسکو؍ پیانگ یانگ ۔ 11 اگست (ایجنسیز) روس اور شمالی کوریا مشرق بعید کے دور دراز خطہ میں اپنے درمیان پہلی سڑک اور ایک پل تعمیر کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے 10 ہزار کلومیٹر دور یوکرین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ آخر کیوں؟ خاسان ایک طویل عرصے سے روس کا انتہائی دور دراز مقام سمجھا جاتا رہا ہے۔ روس کے مشرق بعید میں واقع انتہائی جنوب مشرقی سرے پر اس بستی کی آبادی 500 افراد سے بھی کم ہے۔ ماسکو سے نو ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر، روس کی شمالی کوریا کے ساتھ محض 17 کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے اور خاسان اس سرحدی پٹی پر روس کی واحد آبادی ہے۔ 1959 سے وہاں ’’کوریائی۔روسی دوستی ریلوے پل‘‘ دریائے تومن کے اوپر سے گزرتا ہے، جو اب تک روس اور شمالی کوریا کے درمیان واحد زمینی رابطہ تھا۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک اس پل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک متوازی سڑک اور پل تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ پل توقع سے پہلے مکمل ہو جانے کے قریب ہے، جس نے دور دراز واقع ملک یوکرین میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ روس اس پل کو نہ صرف تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے استعمال کرے گا بلکہ اسے خصوصاً شمالی کوریا سے خفیہ طور پر فوجی یوکرین کے محاذ تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ 2022 میں یوکرینی جنگ کے آغاز کے بعد سے روس اور شمالی کوریا کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے چلے گئے ہیں۔ دونوں ممالک اس لحاظ سے ایک جیسے ہیں کہ وہ وسیع تر مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی شدید تنہائی کا شکار ہیں۔